مباحات

عورت کا سر کے بال کٹوانا

فتوی نمبر :
67222
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

عورت کا سر کے بال کٹوانا

عورت کے لئے تھوڑے بہت بال کٹوانے کی اجازت ہے جامعہ بنوریہ کے آن لائن فتوی میں دیکھا ,اس تھوڑے بہت کی حد کیا ہے ؟ کتنی مقدار میں بال تھوڑے بہت شمار ہونگے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

گھنے اور لمبے بال عورتوں کے لئے باعثِ زینت ہیں،اور تفسیرروح البیان کے مطابق آسمانوں میں بعض فرشتوں کی تسبیح کے الفاظ میں عورتوں کے بالوں کا ذکر بھی ان الفاظ کے ساتھ ملتاہے:''پاک ہے وہ ذات جس نے مردوں کو داڑھی سے زینت بخشی ہے اورعورتوں کو چوٹیوں سے ''۔
اس لیے عورتوں کابلاعذر سر کے بالوں کو کاٹنااور مردوں کی مشابہت اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ایسی عورتوں پررسول اکرم علیہ الصلاۃ و السلام نے لعنت فرمائی ہے , چنانچہ مشکاۃ شریف کی روایت ہے''حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کی لعنت ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیارکرتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں"۔
البتہ اگر شرعی عذر ہو مثلاً علاج کی غرض سے بال کٹوانے ہوں یا بال اس قدر طویل ہوجائیں کہ عیب دار معلوم ہوں یا اسے سنبھالنامشکل ہو , تو فقط زائد بالوں کو بقدرِ ضرورت کاٹناجائز ہوگا(یعنی اگر بال اتنے چھوٹے نہ کیے جائیں جس سے مردوں سے مشابہت ہونے لگے بلکہ بقدرِ ضرورت چھوٹے کیے جائیں تو یہ جائز اور درست ہے مردوں سے مشابہت کا مطلب یہ ہے کہ کندھوں تک بالوں کو کٹوا لیا جائے)۔

مأخَذُ الفَتوی

فی مشكاة المصابيح : و عن ابن عباس قال : لعن الله المخنثين من الرجال و المترجلات من النساء و قال: «أخرجوهم من بيوتكم» . رواه البخاري(2/ 1262)-
و فیہ ایضاً : و عنه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : «لعن الله المتشبهين من الرجال بالنساء و المتشبهات من النساء بالرجال» . رواه البخاري(2/ 1262)-
و فیہ ایضاً : عن علي و عائشة رضي الله عنهما قالا : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تحلق المرأة رأسها . رواه الترمذي(2/ 813)-
و فیہ ایضاً : و عن علي قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تحلق المرأة رأسها . رواه النسائي(2/ 1271)-
و فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق و منحة الخالق و تكملة الطوري: و إذا حلقت المرأة شعر رأسها فإن كان لوجع أصابها فلا بأس به و إن حلقت تشبه الرجال فهو مكروه(8/ 233)-
و فی الفتاوى الهندية : و لو حلقت المرأة رأسها فإن فعلت لوجع أصابها لا بأس به و إن فعلت ذلك تشبها بالرجل فهو مكروه كذا في الكبرى . (5/ 358)-
و فی الدر المختار : قطعت شعر رأسها أثمت و لعنت زاد في البزازية و إن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق ، و لذا يحرم على الرجل قطع لحيته ، و المعنى المؤثر التشبه بالرجال اهـ . (6/ 407)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد طلحہ سرتاج عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67222کی تصدیق کریں
| | |
0     1978
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات