السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں طالب علم ہوں، چونکہ مدرسے میں ماہانہ وظیفہ طلباء کو دیا جاتا ہے، تو میرا بھی وظیفہ جاری تھا، میرا تعلق عباسی خاندان سے ہے، مجھے علم نہیں تھا کہ ہم زکوٰۃ نہیں لے سکتے ، کافی عرصہ گزرگیا ، کسی جگہ پڑھا ہم پر زکوٰۃ لینا جائز نہیں ، مگر میں نے اس کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا ، چونکہ میری ضرورت تھی باوجود معلوم ہونے کے کہ جائز نہیں میں بطور طالب علم لے رہا تھا، اور پھر جب سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ہم پر زکوٰۃ کے پیسے حرام ہیں، میں نے اپنا وظیفہ بند کروادیا، پہلے جب میں نے یہ پڑھا تھا جائز نہیں تھا ، تو گمان کیا تھا کہ کچھ تخفیف ہوگی، مگر جب حرام کا علم ہوا بند کر وا دیا، تو اب جو بند کروانے سے پہلے پہلے میں وظیفہ لے کے اپنی ضروریات میں خرچ کرچکا ہوں (کچھ مدرسہ آنے جانے کا کرایہ کچھ کی کتابیں کچھ کھایا وغیرہ ) تو اس کا کیاحکم ہے؟ کیا گزشتہ لی گئی ساری رقم جو میرے پاس پیسے آئیں تھے، تو اب اس کو جامعہ میں جمع کرواوں یا کیا کروں؟ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ سیّد شخص کیلئے براہِ راست زکوٰۃ کی رقم وغیرہ لینا تو جائز نہیں،البتہ تملیکِ شرعی کے بعد سیّد بھی زکوٰۃ کی رقم وغیرہ استعمال کر سکتا ہے، لہذا سائل کو مذکور مدرسے کی انتظامیہ کی طرف سے اگر باقا عدہ تملیکِ شرعی کے بعد زکوٰۃ کی رقم سے وظیفہ دیا گیا ہو،یا زکوٰۃکے بجائے نفلی صدقات سے سائل کو وظیفہ ملا ہو تو ایسی صورت میں سائل کیلئے اس رقم کا استعمال جائز اور درست تھا ، لیکن اگر سائل کو تملیکِ شرعی کے بغیر براہِ راست زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم سے وظیفہ دیا گیا ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کیلئے اسکا استعمال جائز نہیں تھا، چنانچہ سائل نے اسطرح کی جتنی رقم استعمال کی ہے، غالب گمان کے مطابق اندازه لگا کر اتنی رقم مدرسے کے فنڈ میں جمع کرے۔
کما فی الهندية : و لا يدفع إلى بني هاشم ، و هم آل علي و آل عباس و آل جعفر و آل عقيل و آل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية اھ(1/189)-
و فی الدر المختار : الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء اھ(2/345)-
و فی ردالمحتار : (قوله : أن الحيلة) أي في الدفع إلى هذه الأشياء مع صحة الزكاة .(قوله ثم يأمره إلخ) و يكون له ثواب الزكاة و للفقير ثواب هذه القرب بحر و في التعبير بثم إشارة إلى أنه لو أمره أولا لا يجزئ ؛ لأنه يكون وكيلا عنه في ذلك و فيه نظر ؛ لأن المعتبر نية الدافع و لذا جازت و إن سماها قرضا أو هبة في الأصح كما قدمناه فافهم۔اھ(2/345)-
و فيه ایضاً : و لا يسترد في الولد و الغني و هل يطيب له ؟ فيه خلاف ، و إذا لم يطب قيل يتصدق و قيل يرد على المعطي۔اهـ(2/353)-
و فی فتح القدير : (قوله و قال أبو يوسف-رحمه الله-:عليه الإعادة) و لكن لا يسترد ما أداه ، و هل يطيب للقابض إذا ظهر الحال ، و لا رواية فيه ، و اختلف فيه ، و على القول بأنه لا يطيب يتصدق به . و قيل: يرده على المعطي على وجه التمليك منه ليعيد الأداء اھ(2/275)-
و فی البحر الرائق :و الحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة و للفقير ثواب هذه القرب كذا في المحيط۔ (2/261)-
و فی الموسوعة الفقهية : لا يحل لمن ليس من أهل الزكاة أخذها و هو يعلم أنها زكاة ، إجماعا . فإن أخذها فلم تسترد منه فلا تطيب له ، بل يردها أو يتصدق بها ؛ لأنها عليه حرام،اھ(23/333)-
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0