مصارف زکوۃ و صدقات

تعمیرات، طبی آلات ودیگر طبی لوازمات پر رقمِ زکوٰۃ سے اخراجات کرنا

فتوی نمبر :
66132
| تاریخ :
2022-07-21
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

تعمیرات، طبی آلات ودیگر طبی لوازمات پر رقمِ زکوٰۃ سے اخراجات کرنا

جواب استفتاء بابت الخدمت ڈائیگنوسٹک سینٹر وانسٹی ٹیوٹ:
تعمیرات، طبی آلات ودیگر لوازمات پر زکوٰۃ سے اخراجات:
اللہ تعالیٰ نے اُمت کی سہولت اور آسانی کے لۓ زکاۃ کے مصارف کی تفصیل سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۶۰ میں قدرے وضاحت سے بیان فرما دی ہیں، ان میں فقیر ومسکین، محکمہ زکاۃ کے ملازمین، مؤلفۃ القلوب، غلاموں کی آزادی، مقروض کی مدد، اللہ کی راہ میں اور ضرورت مند مسافر شامل ہیں۔
اہلِ علم کے نزدیک ان کی تشریح وتوضیح میں اگر کچھ اختلاف رائے پایا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں کسی حلال وحرام کامسئلہ پیدا نہیں ہوتا جیسے کسی حاجت مند شخص کو فقیر کہنا درست ہے اور اُسے مسکین کہنے میں بھی کچھ مضائقہ نہیں، بلکہ ایک ہی شخص کو بیک وقت فقیر ومسکین دونوں ناموں سے یاد کرنا معمول کی بات ہے، کسی بھی اعتبار سے وہ زکاۃ کا مستحق بن سکتا ہے،اس مثال کا مقصد یہ ہے کہ ان اصطلاحات میں تنگی کے بجائے معانی کی وسعت اور فراخی پائی جاتی ہے، اسی بنا پر آیتِ مذکورہ میں واقع ساتویں مصرف ’’فی سبیل اللہ‘‘ کے مفہوم کو بھی کسی طور محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس میں اللہ کی خوشنودی اور رضا کے لۓ خیر وفلاح کے وہ تمام کام شامل ہو سکتے ہیں جو مستحق بندگانِ خدا کی سہولت ومدد کے لۓ ہوں، علاج معالجےکے مراکز کی تعمیر سے لے کر نتیجہ خیز ہونے تک تمام مراحل اپنے لوازمات کے ساتھ اس میں شامل ہیں، چنانچہ متعلقہ استفتاء میں الخدمت ڈائیکنوسٹک سینٹر وانسٹی ٹیوٹ کے قیام اور ان میں محتاج، مستحق افراد کی مدد اور متعلقہ بیماری کا علاج بھی فی سبیل اللہ سے جا ملتا ہے۔
سوال : ہمیں الخدمت کی طرف سے مذکور بالا فتویٰ موصول ہوا ہے، جس پر کئی ساتھیوں کو شرح صدر نہیں ہے، آپ سے گذارش ہے کہ اس فتویٰ میں دیئے گئے مدات میں زکوۃ خرچ کرنے کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کر دیں، نیز کیا فتویٰ مذکور میں دئیے گئے سارے کام فی سبیل اللہ میں داخل ہیں، جبکہ علماء مسجد کی تعمیر میں بھی زکوٰۃ کی رقم کے استعمال کو درست نہیں فرماتے، آپ سے گذارش ہے کہ اس فتویٰ میں دیئے گئے مدات میں زکوٰۃ خرچ کرنے کے بارے میں اپنے رائے سے آگاہ کر دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرآن کریم میں بیان کیے گئے مصارفِ زکوٰۃ میں سے مصرف ’’فی سبیل للہ‘‘ کا عام مفہوم لے کر ہر وہ کام جو کسی حیثیت سے نیکی یا عبادت ہے، جیسے : مساجد، مدارس، شفاخانوں، مسافر خانوں کی تعمیر اور ان کی جملہ ضروریات و لوازمات مثلا: دفتری عملہ کی تنخواہ و غیرہ کو زکوٰۃ کا مصرف قرار دینا تفسیر بالرائے ہونے کے ساتھ اجماعِ امت کے بھی خلاف ہونے کی وجہ سے درست نہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، جمہور مفسرین اور فقہاءِ امت نے اس مصرف ولفظ کو ایسے مجاہدین اور حجاج کے لیے مخصوص کیا ہے، جس کے پاس فقر کی وجہ سے جہاد یا حج کا سامان نہ ہو، جبکہ فقہاء نے طالب علموں یادوسرے نیک کام کرنے والوں کو اس میں شامل کیا ہے تو وہ اس شرط کے ساتھ شامل کیا ہے کہ وہ فقیر وحاجت مند بذاتِ خود مصارف زکوٰۃ میں سے سب سے پہلا مصرف ہو، انہیں فی سبیل اللہ میں شمار نہ بھی کیا جائے، تب بھی وہ مستحقِ زکوٰۃ ہوں ، نیز زکوٰۃ کے مسئلہ میں اگر اتنا عموم لے لیا جائے کہ تمام طاعات و عبادات اور ہر نیکی میں خرچ کرنا اس میں شامل ہو تو قرآن مجید میں ان آٹھ مصارف کو مستقلا الگ الگ سے بیان کر نا ( معاذ اللہ ) عبث ٹھہرتا ہے جو کلامِ مجید کے اعجاز و فصاحت کے بھی خلاف ہے، جبکہ فقیر ومسکین فقہ اسلامی کی زبان میں مخصوص اصطلاحات ہیں جو اگر چہ زکوۃ کے باب میں کسی درجہ میں قریب ہو سکتی ہیں، لیکن دیگرابواب "وصیت ووقف" کے مسائل میں ان میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے بہت سے انتظامات معطل ہو کر رہ جاتے ہیں، لہٰذا منسلکہ فتوی میں ذکر کئے گئے مدات جیسے علاج معالجہ کے مراکز کی تعمیر اور کسی رفاہی کام وغیر ہ میں بلا واسطہ و بغیر تملیک کے زکوٰۃ کا مال استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے بہر حال احتراز لازم ہے، البتہ دیگر نفلی صدقات وغیر ہ کو ان کاموں میں خرچ کرنا جائز و درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی تفسير الخازن: الصنف السابع قوله تعالى: وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ يعني وفي النفقة في سبيل الله وأراد به الغزاة فلهم سهم من مال الصدقات فيعطون إذا أرادوا الخروج إلى الغزو ما يستعينون به على أمر الجهاد من النفقة والكسوة والسلاح والحمولة فيعطون ذلك وإن كانوا أغنياء لما تقدم من حديث عطاء وأبي سعيد الخدري ولا يعطى من سهم الله لمن أراد الحج عند أكثر أهل العلم وقال قوم يجوز أن يصرف سهم سبيل الله إلى الحج يروى ذلك عن ابن عباس وهو قول الحسن وإليه ذهب أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهويه وقال بعضهم: إن اللفظ عام فلا يجوز قصره على الغزاة فقط ولهذا أجاز بعض الفقهاء صرف سهم سبيل الله إلى جميع وجوه الخير من تكفين الموتى وبناء الجسور والحصون وعمارة المساجد وغير ذلك قال لأن قوله وفي سبيل الله عام في الكل فلا يختص بصنف دون غيره والقول الأول هو الصحيح لإجماع الجمهور عليه اھ (2/ 375)۔
وفی الدر المختار: (وفي سبيل الله وهو منقطع الغزاة) وقيل الحاج وقيل طلبة العلم، وفسره في البدائع بجميع القرب وثمرة الاختلاف في نحو الأوقاف اھ(2/ 343)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: وهو منقطع الغزاة) أي الذين عجزوا عن اللحوق بجيش الإسلام لفقرهم بهلاك النفقة أو الدابة أو غيرهما فتحل لهم الصدقة وإن كانوا كاسبين إذ الكسب يقعدهم عن الجهاد قهستاني (قوله: وقيل الحاج) أي منقطع الحاج. قال في المغرب: الحاج بمعنى الحجاج كالسامر بمعنى السمار في قوله تعالى {سامرا تهجرون} [المؤمنون: 67] وهذا قول محمد والأول قول أبي يوسف اختاره المصنف تبعا للكنز. قال في النهر: وفي غاية البيان أنه الأظهر وفي الإسبيجابي أنه الصحيح (إلی قوله) (قوله: وثمرة الاختلاف إلخ) يشير إلى أن هذا الاختلاف إنما هو تفسير المراد بالآية في الحكم، ولذا قال في النهر والخلاف لفظي للاتفاق، على أن الأصناف كلهم سوى العامل يعطون بشرط الفقر فمنقطع الحاج أي وكذا من ذكر بعده يعطى اتفاقا وعن هذا قال في السراج وغيره: فائدة الخلاف تظهر في الوصية يعني ونحوها كالأوقاف والنذور على ما مر اهـ (2/ 343)۔
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: والصنف السابع - في سبيل الله: وهم الغزاة المجاهدون الذين لا حق لهم في ديوان الجند؛ لأن السبيل عند الإطلاق هو الغزو، ولقوله تعالى: {إن الله يحب الذين يقاتلون في سبيله صفاً} [الصف:4/ 61] وقوله: {وقاتلوا في سبيل الله} [البقرة:190/ 2] وغير ذلك، فيدفع إليهم لإنجاز مهمتهم وعونهم ولو كانوا عند الجمهور أغنياء؛ لأنه مصلحة عامة. وأما من له شيء مقدر في الديوان فلا يعطى؛ لأن من له رزق راتب يكفيه، فهو مستغن به. لكن لا يحج أحد بزكاة ماله، ولا يغزو (يجاهد) بزكاة ماله، ولا يُحَج بها عنه، ولا يُغْزى بها عنه لعدم الإيتاء المأمور به. وقال أبو حنيفة: لا يعطى الغازي في سبيل الله إلا إذا كان فقيراً. والحج عند الحنابلة وبعض الحنفية من السبيل، فيعطى مريد الحج من الزكاة، لما روى أبو داود عن ابن عباس: «أن رجلاً جعل ناقة في سبيل الله، فأرادت امرأته الحج، فقال لها النبي صلّى الله عليه وسلم: اركبيها، فإن الحج من سبيل الله» فيأخذ مريد الحج من الزكاة إن كان فقيراً، ما يؤدي به فرض حج أو فرض عمرة، أو يستعين به في أداء الفرضين؛ لأنه يحتاج إلى إسقاط الفرض. وأما التطوع فله عنه مندوحة اھ (3/ 1957)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 66132کی تصدیق کریں
0     673
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • عباسی خاندان کو زکوۃ دینے کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • قطب شاہی اعوان کو زکوۃ دیناجائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • ہسپتال کے سامان وغیرہ لینے کے لئے زکوۃ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • مال زکوٰۃ سے کسی کو حج کروانا

    یونیکوڈ   اسکین   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • مدرسہ کی تعمیروغیرہ میں زکوۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • زکوۃ کی تملیک کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   مصارف زکوۃ و صدقات 2
  • مقروض بھائی کو زکوۃ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • زکوٰۃ کے مستحق کا اندازہ کیسے لگایا جائے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • بیت المال فنڈ سے سید کا علاج کروانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • زکوۃ کی رقم سے رفاہ عام جیسے ہسپتال وغیرہ بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • اپنے استاد کو صدقہ خیرات دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • کیانانی کو زکوۃ دیناجائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • اعضاء کی پیوند کاری کروانے کیلئے زکوۃ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • زکوۃ اور چرم قربانی وغیرہ سے ویلفیئر چلانا

    یونیکوڈ   اسکین   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • مستحق شخص کو نصاب سے زیادہ زکوۃ دینے کا حکم

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 4
  • زکوۃ کی رقم سے سیلاب متاثرین کی مدد کرسکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 2
  • استاد یا ملازم کو زکوۃ کی رقم سے تنخواہ دینا

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • غریب اور کچی آبادی کے اسکول میں یتیم بچوں کے لئے زکوۃ

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • کیا گھر کے ملازمین کو زکوۃ دینا منع ہے

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • مدرسہ کیلئے زکوۃ وغیرہ کی رقم لینا

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • زکوٰۃ کی رقم کا بہترین مصرف کیا ہے؟

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • زکوٰۃ کی رقم سے کنواں کھدوایا جاسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • بھانجی کو زکوٰۃ دینے کا حکم

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
Related Topics متعلقه موضوعات