میں نے ایک ویب سائٹ پر پڑھا تھا کہ فرض نماز تحیۃ المسجد کے قائم مقام ہو جاتی ہے، اسی طرح پر وہ نماز جو کوئی ادا کرتا ہے مسجد میں داخل ہوتے وقت ،خواہ وہ تحیۃ المسجد کی نیت اپنی نیت میں شامل کرے یا نہ کرے؟
آپ بتائیں کہ ایک شخص کو کسی اور نماز کے ساتھ تحیۃ المسجد کی نیت کس طرح کرنا چاہیے؟ مثلاً اگر میں مغرب کی نماز ادا کرنے جا رہا ہوں تونیت کس طرح کروں؟
اگر کوئی شخص مسجد میں جاتے ہی کسی فرض چاہے مغرب ہو یا کوئی اور، اسی طرح سنت میں مشغول ہو جائے تو تحیۃ المسجد کے قائم مقام ہے، خواہ تحیۃ المسجد کی نیت کرے یا نہ کرے، البتہ نمازِ مغرب سے پہلے نفل پڑھنا مکروہ ہے، اس وقت تحیۃ المسجد کی نیت سے نفل پڑھنے سے احتراز چاہیۓ۔
فی حاشية ابن عابدين: (قوله ينوب عنها بلا نية) قال في الحلية: لو اشتغل داخل المسجد بالفريضة غير ناو للتحية قامت تلك الفريضة مقام تحية المسجد لحصول تعظيم المسجد، كما في البدائع وغيره اھ (2/ 18)۔
وفیہا: (وكذا) الحكم من كراهة نفل وواجب لغيره (إلی قوله) (وقبل) صلاة (مغرب) لكراهة تأخيره إلا يسيرا اھ (1/ 376)۔