کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل عصر کا وقت ۵:۲۰ پر داخل ہوتا ہے اور ہمارے ایک ساتھی پونے پانچ بجے اپنی انفرادی نماز پڑھ لیتے ہیں ، بقول ان کے ہماری کمپنی کی گاڑی ہمیں ۷ بجے گھر پر پہنچاتی ہے اور عصر کی نماز کے وقت میں شریعت کے اندر گنجائش ہے اور مثلِ اوّل جو کہلاتا ہے اس کے مطابق ہم عصر کی نماز پڑھ سکتے ہیں ،براہِ کرم شریعت کی رُو سے جواب عنایت فرمائیں۔
احناف کے یہاں مفتیٰ بہ قول کے مطابق نمازِ عصر مثلِ ثانی کے بعد ادا کرنا لازم ہے اور اگر سفر وغیرہ جیسی مجبوری کی وجہ سے نمازِ عصر مثلِ اول کے بعد پڑھی تو یہ نماز ادا شمار ہوگی ، تاہم مثلِ ثانی سے پہلے نمازِ عصر ادا کرنا اور اس کی مستقل عادت بنالینا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار: (ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) وعنه مثله (إلی قوله) وفي الفيض: وعليه عمل الناس اليوم وبه يفتى اھ(1/ 359)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: وعليه عمل الناس اليوم) أي في كثير من البلاد، والأحسن ما في السراج عن شيخ الإسلام أن الاحتياط أن لا يؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلي العصر حتى يبلغ المثلين ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، وانظر هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا، والظاهر الأول بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام تأمل. ثم رأيت في آخر شرح المنية ناقلا عن بعض الفتاوى أنه لو كان إمام محلته يصلي العشاء قبل غياب الشفق الأبيض فالأفضل أن يصليها وحده بعد البياض اھ (1/ 359)۔
وفی الفتاوى الهندية: قالوا الاحتياط أن يصلي الظهر قبل صيرورة الظل مثله ويصلي العصر حين يصير مثليه ليكون الصلاتان في وقتيهما بيقين. ووقت العصر من صيرورة الظل مثليه غير فيء الزوال إلى غروب الشمس اھ (1/ 51)۔