جمعہ کے بعد کتنی سنت ہیں؟ اور جمعہ سے پہلے کتنی ہیں؟ میرے خیال میں پہلے اور بعد میں چار چار ہیں، لیکن میں نے ایک مضمون میں دو رکعت کا اضافہ پڑھا ہے؟
واضح ہو کہ جمعہ کی فرض نماز سے پہلے اور بعد میں چار چار رکعات کا سنتِ مؤکدہ ہونا بلا اختلاف ہے، مگر بعد والی دو رکعات کے سنتِ مؤکدہ ہونے میں اختلاف ہے اور احناف میں سے امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے نزدیک ان کا پڑھنا بھی سنت ہی ہے، جیسا کہ روایاتِ حدیث سے بھی اس کی تصریح ملتی ہے، اس لیے ان دو رکعتوں کا پڑھنا بہتر و افضل ہے، جس کا اہتمام چاہیے۔
ففی مصنف ابن أبي شيبة: عن أبي عبد الرحمن، قال: قدم علينا ابن مسعود، فكان «يأمرنا أن نصلي بعد الجمعة أربعا»، فلما قدم علينا علي، «أمرنا أن نصلي ستا»، فأخذنا بقول علي، و تركنا قول عبد الله، قال: «كنا نصلي ركعتين، ثم أربعا» اھ(1/ 464)۔
و فی الدر المختار: و يستن بعدها أربعا أو ستا على الخلاف اھ
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله على الخلاف) أي أربعا عنده و ستا عندهما اھ(2/ 446)۔