کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلے کی جامع مسجد میں کچھ لوگ دین کی سمجھ رکھنے کے باوجود ،مسجد کے اندر لڑائی اور گالی گلوچ کرتے ہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ ایسے لوگوں کا کیا حکم ہے؟ اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟
۲۔ قاری صاحبان اور حفاظ کی موجودگی میں ایک عام آدمی جو نہ حافظ ہے نہ قاری، زبردستی امامت کروائے ، ایسے شخص کے بارے میں وضاحت فرمائیں ، جبکہ اس شخص نے قاری صاحب کو مصلے سے ہٹا کر خود امامت کروائی ہے۔
۱۔ کسی بھی مسجد(خواہ وہ عام ہو یا جامع مسجد ہو) میں شور و شغب کرنا یا باہم گالی گلوچ اختیار کرنا سخت گناہ کی بات ہے، جس سے احتراز اور بجائے شور شغب کے ذکر و عبادت لازم ہے ۔
ٍ۲۔ تنقیح: مذکور عام شخص اس طرح کیوں کرتا ہے اور قاری صاحبان کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے اور مصلّے پر کھڑے شخص کو کیونکر پیچھے ہٹایا گیا؟ براہِ کرم ان تنقیحات کی تفصیل لکھ کر دوبارہ رجوع فرمائیں، ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائےگا۔
ففي رد المحتار: (قوله بأن يجلس لأجله) فإنه حينئذ لا يباح بالاتفاق لأن المسجد ما بني لأمور الدنيا. و في صلاة الجلابي: الكلام المباح من حديث الدنيا يجوز في المساجد و إن كان الأولى أن يشتغل بذكر الله تعالى، كذا في التمرتاشي، هندية ،و قال البيري ما نصه: و في المدارك - {و من الناس من يشتري لهو الحديث} [لقمان: 6] المراد بالحديث الحديث المنكر كما جاء «الحديث في المسجد يأكل الحسنات كما تأكل البهيمة الحشيش» ، انتهى. فقد أفاد أن المنع خاص بالمنكر من القول، أما المباح فلا. قال في المصفى: الجلوس في المسجد للحديث مأذون شرعا لأن أهل الصفة كانوا يلازمون المسجد وكانوا ينامون، و يتحدثون، و لهذا لا يحل لأحد منعه ، كذا في الجامع البرهاني.
أقول: يؤخذ من هذا أن الأمر الممنوع منه إذا وجد بعد الدخول بقصد العبادة لا يتناوله اھ (1/ 662)۔