میرے پاس جو نماز کا چارٹ موجود ہے، عصر کی نماز ۴:۵۰ شام شروع ہوتی ہے، کیا اس طور پر نماز ادا کرنا جائز ہوگا کہ ، مسلکِ شافعیہ کے مطابق وقت داخل ہو چکا ہو ، جبکہ میں خود حنفی المسلک ہوں۔
بلا امرِ مجبوری ایسا کرنےسے احتراز اور عند الاحناف مفتی بہ قول پر عمل لازم ہے۔
ففی الدر المختار: (ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) اھ (1/ 359)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: إلى بلوغ الظل مثليه) هذا ظاهر الرواية عن الإمام نهاية، وهو الصحيح بدائع ومحيط وينابيع، وهو المختار غياثية اھ (1/ 359)
وفی المبسوط للسرخسي: وروى أبو يوسف عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى أنه لا يخرج وقت الظهر حتى يصير الظل قامتين اھ (1/ 142) واللہ أعلم بالصواب!
فجر اور اشراق کا وقت جرمنی کے فجر و اشراق کا وقت- العصر گھڑی کے اوقات نماز کی شرعی حیثیت
یونیکوڈ اوقات نماز 0اگر عصر کی نماز کے دوران مغرب کی اذان شروع ہوگئی، تو اُسے نماز توڑنا چاہیے یا نہیں؟
یونیکوڈ اوقات نماز 0حنفی شخص کے لئے شافعی المسلک امام کی اقتداء میں وقت داخل ہونے سے پہلے نماز پرھنے کا حکم
یونیکوڈ اوقات نماز 0