کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک جگہ مسجد بن رہی ہو اور اس مسجد کے لیے"بیش" (بڑی لکڑی) اس طریقہ پر لائی جاتی ہو کہ دھوم دھام سے ڈھول باجے اور بندوقیں چل رہی ہوں ، مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ یہ کام کیسا ہے؟ مسجد جو کہ اللہ کا گھر ہے اس میں ڈھول باجوں کےساتھ بندوق وغیرہ کومسجد کے کام میں چلانا آیا یہ کام کفریہ ہے یا گناہِ کبیرہ ہے یا کارِ خیر ہے؟ اور اگر اس ڈھول اور باجہ بجانے کو کارِ خیر اور ثواب سمجھ کر کیا جائے توآیا اس سے انسان کافر ہو جاتا ہے یا نہیں؟
نیز یہ بھی بتائیے کہ مسجد کا کام کس طریقے سے کیا جائے اور اس مسجد میں ازروئے شریعت نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور یہ بھی بتائیے کہ اس بیش کو مسجد میں رکھنا کیسا ہے؟
مسجد کا کام کارِ خیر ہے اس کو مذکور طریقہ سے انجام دینا گناہِ کبیرہ ہے پھر ان ڈھول باجوں کو کارِ خیر سمجھنا کسی مسلمان کی شان کے لائق نہیں، اور نہ ہی کوئی مسلمان اس طرح کا اعتقاد رکھ سکتا ہے تا ہم اگر کوئی شخص واقعۃً اس قسم کا اعتقاد رکھتا ہو ، اس کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں، اس پر توبہ و استغفار لازم ہے۔
نیز ایسی مسجد میں نماز پڑھنا اور مذکور’’ بیش‘‘ مسجد میں لگانا جائز اور درست ہے۔
ففي رد المحتار: قال في البحر عن الخلاصة: من اعتقد الحرام حلالا أو على القلب يكفر إذا كان حراما لعينه و ثبتت حرمته بدليل قطعي. أما إذا كان حراما لغيره بدليل قطعي أو حراما لعينه بإخبار الآحاد لا يكفر إذا اعتقده حلالا. اهـ ومثله في شرح العقائد النسفية اه (1/ 297)۔
و في رد المحتار: في البحر و الأصل أن من اعتقد الحرام حلالا فإن كان حراما لغيره كمال الغير لا يكفر و إن كان لعينه فإن كان دليله قطعيا كفر، و إلا فلا و قيل التفصيل في العالم أما الجاهل فلا يفرق بين الحرام لعينه و لغيره و إنما الفرق في حقه أن ما كان قطعيا كفر به و إلا فلا ، فيكفر إذا قال الخمر ليس بحرام و تمامه فيه اه(4/ 223)۔
و في الفقه الإسلامي و أدلته: و أما الآلات: فيحرم في المشهور من المذاهب الأربعة (الحنفية و المالكية و الشافعية و الحنابلة) استعمال الآلات التي تطرب كالعود و الطنبور و المعزفة و الطبل و المزمار و الرباب و غيرها من ضرب الأوتار و النايات و المزامير كلها اه(4/ 212)۔