کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ دین، اس مسئلے کے بارے میں کہ ٹیلیفون کی گھنٹی اور گھروں میں لگائی جانے والی اطلاعی گھنٹی لگانا کیسا ہے ؟ کیا یہ اس حدیث کے ضمن میں نہیں آتا ہے جس میں حضور ﷺ نے گھنٹی سے منع فرمایا ہے؟ حالانکہ آج کل اکثر علماء کے گھروں اور دفتروں میں یہ دونوں چیزیں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور گھنٹیاں اگر میوزک سے خالی ہوں ، اور کسی دوسرے کو اطلاع اور پیغام وغیرہ دینے کیلئے استعمال کی جاتی ہوں ، نہ کہ محض لہو و لعب اور موسیقی وغیرہ کے لئے ، تو اس کی گنجائش ہے جس کی بناء پر یہ ممانعت والی حدیث میں شامل نہیں، جیسا کہ شراحِ حدیث نے بھی ان کو مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
قال الشیخ تقی العثمانی شارح صحیح مسلم فی کتابہ تکلمۃ فتح الملہم : (باب کراہۃ الکلب و الجرس فی السفر) قال : ’’و کذالک الجرس اذا کان لمقصود مباح فلا بأس بہ‘‘۔(ج۴، ص۱۷۹ مطبوعہ دارالعلوم)
و قال الشیخ سہانفوری شارح ابوداؤد فی کتابہ بذل الجہود ؛ ’’کتاب الجہاد ، باب فی تعلیق الاجراس قال : (و ھذا أی کراہۃ الکلب و الجرس إذا خلیا عن منفعۃ و أما إذا احتیج الیہ منہما فرخصہ فیہ)۔