کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
(۱) جس آدمی سے صبح کی دو سنتیں قضا ہوجائیں تو اب ان کی قضا ہے کہ نہیں؟ اگر قضا ہے تو اس کی ترتیب کیا ہے؟
(۲) جب فرض نماز کھڑی ہو تو اس وقت سنتیں پڑھنا کیسا ہے؟ خاص کر صبح اور ظہر کی سنتیں جو قبل از فرض پڑھی جاتی ہیں؟
(۳) غیر مسلم کا ہدیہ (ہبہ) مسلمان کو قبول کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ اگر جائز ہے تو کس ارادہ کے ساتھ وہ ہدیہ قبول کرے ؟ اور اگر جائز نہیں تو اس ہدیہ کو قبول کرلیا تو پھر اس چیز کا کیا حکم ہے؟
(۴) مسجد کے اندر دنیاوی باتیں کرنا حرام ہے اور یہاں پر جامع مسجد محمدی کے اندر طلباء کرام گپ شپ مذاق وغیرہ کرتے ہیں ان کا کیاحکم ہے؟
تفصیل کے ساتھ آگاہ فرماکر مشکور فرمائیں۔
(۱ ،۲) اگر کسی مجبوری کی بناء پر ظہر کی محض سنتیں رِہ جائیں تو جماعت کے بعد بھی وقت کے اندر پڑھ لینی چاہۓ ، وقت گذر جانے کے بعد ان کی کوئی قضا نہیں ، البتہ صبح کی سنتوں کے زیادہ مؤ کد ہونے کی وجہ سے طلوعِ آفتاب کے بعد سے زوال تک ان کے پڑھ لینے کی گنجائش ہے ، اس کے بعد نہیں۔
(۳) اگر کسی غیر مسلم کا مسلمان کو ہدیہ دینے سے مقصد اسے اپنے مذہبِ باطل کی طرف راغب کرنا اور لالچ دینا مقصود نہ ہو تو ایسے غیر مسلم کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے ، ورنہ اس سے احتراز لازم ہے۔
(۴) مسجد جو خانۂ خدا ہے اس میں غیر شرعی امور پر بحث مباحثہ اور مزاح وغیرہ کرنا بلاشبہ ناجائز ہے جس سے احتراز ہر مسلمان پر لازم ہے۔