السلام علیکم! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں جہاں کام کرتا ہوں وہاں عیسائی لوگ بھی کام کرتے ہیں جو کہ مجھ سے بہت بڑے ہیں اور میرے استاد بھی ، اخلاق میں بھی بہت اچھے ہیں، کیامیں ان کو بھائی کہہ کر مخاطب کرو ں تو اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ جیسے ہم بولتے ہیں ، عمران بھائی ، وسیم بھائی وغیرہ ، کیا ہم ان کو فیلکس بھائی بول سکتے ہیں؟ جب کہ عیسائی تو ایک طرح سے ہمارے کزن بھی ہیں، کیونکہ ہم سب بی بی حواء اور آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور ان کو سلام کرنے بارے میں بھی تفصیل سے بتائیں۔
اردور محاروہ میں ’’بھائی‘‘ کا لفظ عموماً خطاب کے لیے بھی مستعمل ہے، اس لیے مذکور کاروباری صورتِ حال کے پیشِ نظر اگرچہ سائل شخصِ مذکور کو بھائی کہہ کر اور پکار کے بلاسکتا ہے اور اس میں شرعاً کوئی قباحت بھی نہیں اور بحیثیت استاد اس کا احترام بھی جائز ہے، تاہم اس دفتری اور کاروباری ضرورت کو بنیاد بنا کر کسی بھی غیرمسلم کے ساتھ دوستانہ تعلقات روا سمجھنا اور اس سلسلہ میں باطل تاویلات کا سہارا لینا محض ایک احمقانہ اور جاہلانہ حرکت ہے جو اشارۃً غیرمسلموں سے مرعوب ہو نے کی دلیل ہے، جبکہ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں غیر مسلموں کو ابتداءً سلام سے منع اور انکے پہلے سلام کرنے پر جواب میں فقط ’’وعلیکم‘‘ کہنے کا حکم ہے۔
ففی قول اللہ تعال: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَ النَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَ مَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ (المائدة: 51)۔
و فی تفسیر الجلالین: ﴿و لا تركنوا ﴾ تميلوا ﴿إلى الذين ظلموا﴾ بمودة أو مداهنة أو رضا بأعمالهم ﴿فتمسكم﴾ تصيبكم ﴿النار و ما لكم من دون الله﴾ أي غيره ﴿من﴾ زائدة ﴿أولياء﴾ يحفظونكم منه ﴿ثم لا تنصرون﴾ تمنعون من عذابه اھ (301)۔
و فی مشكاة المصابيح: و عن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «لا تبدؤوا اليهود و لا النصارى بالسلام و إذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروه إلى أضيقه»(3/ 1316)۔
و فیھا أیضاً: و عن أنس قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " إذا سلم عليكم أهل الكتاب فقولوا: و عليكم "(3/ 1316)۔