میں ایک پرائیوٹ کمپنی میں ملازمت کرتاہوں جہاں کام کرنے والوں کی تعداد تقریباً پینتیس (۳۵) ہیں , ان پینتیس لوگوں میں تین ہندو اور ایک کرسچن ہے , ان میں سے ایک ہندو جمادار بھی ہے جو پورا دن آفس میں رہتاہے اور استنجا خانہ صاف کرنے کے علاوہ آفس میں جھاڑو بھی دیتاہے اس کے علاوہ وہ فارغ ہوتاہے تو ہم بازار سے دوپہر کے کھانے کے لئے اس سے روٹیاں بھی منگواتے ہیں اور وہ پورا دن آفس میں رہتاہے تو کچن میں جو پانی پینے کے گلاس رکھے ہوتے ہیں ان میں پانی بھی پیتاہے اور باقی اسٹاف بھی , پانی کچن میں رکھے یوں ہی گلاسوں میں پیتے ہیں , اس کی دل آزاری نہ ہو اس لئے ہم نے اس کا گلاس الگ نہیں رکھا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کی پیے ہوئے گلاسوں میں پانی پی سکتے ہیں؟ اور اُس سے روٹیاں منگوا سکتے ہیں؟ اس کے ہاتھ سے لایا ہوا پانی پی سکتے ہیں؟ اور ایک اور شخص جو ہندو ہے آفس میں کام کرتاہے وہ دیوالی کا کیک ہمارے لئے لاتاہے جو کہ ایک بیکری کا بنایاہوا ہے اُسے کھا سکتے ہیں؟
دیوالی یا ہندوؤں کے کسی دوسرے تہوار کا کیک لینا اور کھانا تو جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے جبکہ کافر سے روٹیاں یاکوئی دوسری چیز منگوانا اور اس کا استعمال شدہ گلاس اگر پاک ہو تو اس میں پانی لینا اگرچہ جائز ہے مگر ایسے شخص کے ساتھ ایسا دوستا نہ تعلق رکھنا جس کی وجہ سے اس کے کفر کی نفرت دل سے نکل جائے , درست نہیں۔
وفی الهندیة: واسلامه لیس بشرط أصلا فتجوز الإجارة والاستجار من المسلم والذمی والحربی والمستأمن الخ. (۴/ ۴۱۰)-
وفیها ایضًا قال محمد رحمه اللہ ویکره الأکل والشرب فی أوانی المشرکین قبل الغسل ومع هذا لو أکل أو شرب فیها قبل الغسل جاز ولا یکون اٰکلًا ولا شاربًا حرامًا وهذا اذا لم یعلم بنجاسة الأوانی (الٰی قوله) الأکل مع المجوسی ومع غیره من أهل الشرك أنه هل یحل أم لا وحکی عن الحاکم الإمام عبد الرحمٰن الکاتب أنه ان ابتلی المسلم مرة او مرتین فلا بأس به وأما الدوام علیه فیکره الخ. (۵/ ۳۴۷) -