احکام نماز

کیا ولایت میں کوئی ایسا مقام ہے جس پر پہنچنے کے بعد نماز ساقط ہوجاتی ہے؟

فتوی نمبر :
60153
| تاریخ :
2004-03-15
عبادات / نماز / احکام نماز

کیا ولایت میں کوئی ایسا مقام ہے جس پر پہنچنے کے بعد نماز ساقط ہوجاتی ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ بعض فرقے کہتے ہیں کہ ہمیں ظاہری طور پر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ ہمارے دل نماز پڑھتے ہیں ،کیا یہ بات صحیح ہے؟
نیز کیا ولایت میں کوئی ایسا مقام ہے جہاں پہنچنے کے بعد نماز ساقط ہو جاتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شریعتِ مطہرہ نے جن اعمال کو ظاہری اعضاء و جوارح کے ساتھ کرنے کا حکم دیا ہے ،ان کو دل سے ادا کرنے کی بات کرنا سراسر جہالت اور دین سے دوری پر مبنی ہے ، لہٰذا کسی جاہل صوفی اور متحرف کیلئے قطعاً جائز نہیں کہ وہ اس قسم کے مغلظات کی وجہ سے عوام الناس میں انتشار پھیلائے ،بلکہ اپنے ذمہ لازم عبادات و احکامات کو اعضاء و جوارح سے بجا لاکر مواخذۂ اخروی سے سبکدوشی کی کوشش کرے۔
نیز جب منصبِ نبوت میں ایسا کوئی مقام نہیں کہ واجباتِ شرعیہ اس سے ساقط ہوجائیں تو منصبِ ولایت وغیرہ میں قطعاً اس کی کوئی گنجائش نہیں ، لہٰذا اس قسم کی واہیات اور لغویات سے مکمل احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في شرح العقائد : و لا یصل العبد مادام عاقلا بالغا الی حیث یسقط عنه الامر و النھی لعموم الواردة فی التکالیف و اجماع المجتہدین علی ذالك و ذھب بعض الاباحیین الی ان العبد اذا بلغ غاية المحبة و صفاء قلبه و اختار الایمان علی الکفر من غیر نفاق سقط عنه الامر و النہی و لایدخله اللہ النار بارتکاب الکبائر و بعضھم الی انه تسقط عنه العبادات الظاہرة و تکون عباداته التفکر و ھذا کفر و ضلال اھ(380)۔
و فی دراسات فی الفرق الصوفية : الولي في اللغة : القريب و الولاية ضد العداوة , و أصل الولاية المحبة و التقريب , و المراد بأولياء الله خلص المؤمنين , و قد فسر سبحانه هؤلاء الأولياء بقوله : " الذين آمنوا وكانوا يتقون " أي يؤمنون بما يجب الإيمان به و يتقون ما يجب عليهم اتقاؤه من المعاصي , قال ابن تيمية : الولي سمي ولياً من موالاته للطاعات أي متابعته لها , و هذا المعنى الذي يدور بين الحب و القرب و النصرة هو الذي أراده القرآن الكريم من كلمة ولي مشتقاتها في كل موضع أتى بها فيه , سواء في جانب أولياء الله أو في جانب أعداء الله . و من ثم فليس لنا أن نخرج هذا المصطلح عن المعنى الذي حدده القرآن بلسان عربي مبين . يقول ابن حجر العسقلاني : " المراد بولي الله : العالم بالله تعالى , المواظب على طاعته .اھ(ص: 49)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60153کی تصدیق کریں
0     574
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات