کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب فرض نماز میں قعدۂ اولیٰ بھول جائیں اور کھڑے ہو جائیں ، پھر مقتدیوں کے کہنے پر قعدۂ اولیٰ کی جانب پھر لوٹ جائیں یعنی اولیٰ سے ادنیٰ کی طرف لوٹ جائیں تو یہ نماز درست ہوئی یا نہیں؟ جبکہ قدوری ایچ ایم سعید کمپنی حاشیہ نمبر۶ صفحہ نمبر ۷۰ میں لکھا ہے کہ بطلت صلاتہ۔
مذکورہ صورت میں اگرچہ بعض فقہاءِ کرام نے فسادِ نماز کا حکم دیا ہے، مگر بعض دوسرے فقہاء نے جہالت کے عموم کی بناء پر اس صورت میں بھی سجدہ سہو کر لینے سے صحتِ نماز کا حکم بیان کیا ہے اور اسی میں سہولت بھی ہے اور یہی راجح ہے۔
فی الدر المختار: وإن استقام قائما (لا) يعود لاشتغاله بفرض القيام (وسجد للسهو) لترك الواجب (فلو عاد إلى القعود) بعد ذلك (تفسد صلاته) لرفض الفرض لما ليس بفرض وصححه الزيلعي (وقيل لا) تفسد لكنه يكون مسيئا ويسجد لتأخير الواجب (وهو الأشبه) كما حققه الكمال وهو الحق بحر اھ(2/ 84)۔