میرا سوال یہ ہے کہ میں نے یہ نیت کی تھی کہ مجھے اپنے کاروبار میں سے جتنا بھی نفع ہوگا ،ہر ماہ اس کا 33 ٪ فیصد راہِ خدا میں صدقہ و خیرات کروں گا، اس کی کوئی منت وغیرہ نہیں مانی تھی، کیا ان پیسوں کو اہلِ خانہ پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے؟
سائل نے اگر مذکور رقم صدقہ کرنے کی باقاعدہ منت نہ مانی ہو ،بلکہ صرف دل ہی دل میں ارادہ کیا ہو کہ میں اپنی رقم کا 33 فیصد صدقہ کروں گا تو وہ رقم نفلی صدقہ شمار ہوگی،سائل مذکور رقم اپنے گھر والوں پر خرچ کرسکتاہے،شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0