کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
۱۔ کیا اشراق کی نماز دوام کی وجہ سے واجب ہو جاتی ہے؟
۲۔ کیا تہجد کی نماز دوام کی وجہ سے واجب ہو جاتی ہے؟
۳۔ اوّابین کی نماز پر دوام چاہیۓ یا وقتاً فوقتاً؟
۳،۲،۱۔ صلوٰتِ خمسہ کے علاوہ جتنی بھی نفل نمازیں منقول ہیں، چاہے وہ تہجد، اشراق، اوّابین ہوں یا کوئی دوسری عبادت، ان کا پڑھنا اور ان پر مداومت کرنا پسندیدہ اور محمود فعل ہے، مگر اس کے باوجود بھی یہ نمازیں نفل ہی رہیں گی فرض یا واجب نہیں ہوں گی۔
فی رد المختار: انه یکره ترك تهجد اعتاده بلاعذر لقوله علیه السلام لإبن عمر رضی اللہ عنه لا تکن مثل فلان كان یقوم الیل ثم تركه فینبغی للمكلف الأخذ من العمل بما یطیقه کما ثبت فی صحیحین أحب الأعمال إلی اللہ ادومها وإن قل اھ (۲/۲۵)۔
وفی بدائع الصنائع: وإن تطوع بعد المغرب بست رکعات کتب من الاوابین وتلا قوله تعالٰی ﴿انه كان للاوابین غفوراً﴾ وإنما قال فی الأصل أن التطوع بالأربع قبل العشاء حسن لأن التطوع بها لم یثبت أنه من السنن الراتبة ولو فعل ذلك فحسن اھ (۱/۲۸۵)۔