کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب فرض نماز میں قعدۂ اولیٰ بھول جائیں اور کھڑے ہوجائیں پھر مقتدیوں کے کہنے پر قعدۂ اولیٰ کی جانب پھر لوٹ جائیں یعنی اولیٰ سے ادنیٰ کی طرف لوٹ جائیں تو یہ نماز درست ہوئی یا نہیں؟ جبکہ قدوری ایچ ایم سعید کمپنی حاشیہ نمبر (۶) صفحہ …(۵۰) میں لکھا ہے کہ: ’’بطلت صلا تہ‘‘۔
مذکورہ صورت میں اگرچہ بعض فقہاءِ کرام نے فسادِ نماز کا حکم دیا ہے مگر بعض دوسرے فقہاءِ کرام نے جہالت کے عموم کی بناء پر اس صورت میں بھی سجدۂ سہو کرلینے سے صحتِ نماز کا حکم بیان کیا ہے اور اسی میں سہولت بھی ہے اور یہی راجح ہے۔
وفی الدر: (وإلا) أي وإن استقام قائما (لا) يعود لاشتغاله بفرض القيام (وسجد للسهو) لترك الواجب (فلو عاد إلى القعود) بعد ذلك (تفسد صلاته) لرفض الفرض لما ليس بفرض وصححه الزيلعي (وقيل لا) تفسد لكنه يكون مسيئا ويسجد لتأخير الواجب (وهو الأشبه) كما حققه الكمال وهو الحق بحر،الخ۔ (ج۲، ص۸۴)۔