احکام نماز

ایک شخص لفظ ’’السلام‘‘ کے بعد نماز میں شامل ہوا تو کیا یہ شخص اسی تکبیر پر بناء کرے یا از سر نو دوبارہ تکبیر کہے؟

فتوی نمبر :
59485
| تاریخ :
2003-02-02
عبادات / نماز / احکام نماز

ایک شخص لفظ ’’السلام‘‘ کے بعد نماز میں شامل ہوا تو کیا یہ شخص اسی تکبیر پر بناء کرے یا از سر نو دوبارہ تکبیر کہے؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) اگر ایک شخص لفظ ’’السلام‘‘ کے بعد نماز میں شامل ہوا اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ شخص اسی تکبیر پر بناء کرے یا از سر نو دوبارہ تکبیر کہے؟
(۲) ایک مسافر شخص نے مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھی، درمیان میں حدث لاحق ہوا جب اس شخص نے وضو کرکے دوبارہ جماعت میں شامل ہونا چاہا تو جماعت مکمل ہوچکی تھی، تو اب یہ شخص دو رکعت نماز پڑھے گا یا چار رکعت؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

لفظ ’’السلام‘‘ کہتے ہی امام کی نماز ختم ہوجاتی ہے اس لئے ایسی حالت میں امام کی اقتداء کرنا درست نہیں، جس سے احتراز اور بجائے اقتداء کے انفرادی نماز کی نیت چاہیئے، جبکہ بعض فقہاءِ کرام کے نزدیک اسی نیت پر بناء کرکے اپنی انفرادی نماز پڑھی جاسکتی ہے اعادۂ نیت کی ضرورت نہیں مگر بہتر یہ ہے کہ نئے سرے سے تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرے۔
(۲) صورتِ مسئولہ میں مذکور مسافر اگر بناء کرے گا تو چار ورنہ دو رکعت پڑھے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الشامیۃ: (قولہ وتنقضی قدوۃ بالاوّل) ای بالسلام الاوّل قال فی التبخیس: الإمام اذا فرع من صلاتہ فلما قال السلام جاء رجل واقتدی بہ قبل ان یقول علیکم لا یصیر داخلا فی صلاتہ۔ الخ (ج۱، ص۴۶۸) وکذا فی الخانیۃ علی ہامش الہندیۃ (ج۱، ص۱۰۰)۔
فی التنویر: اذا فسد الاقتداء لا یصح شروعہ فی صلاۃ نفسہ۔ الخ وفی الشامیۃ: والحاصل ان فی المسئلہ روایتین احداہما صحۃ الشرع فی صلاۃ نفسہ۔ الخ(ج۱، ص۵۸۲، ص۵۸۳)۔
و فی الشامیۃ: والأصل ان اللاحق یصلی علٰی ترتیب صلاۃ الإمام۔ (ج۱، ص۵۹۶)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59485کی تصدیق کریں
0     509
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات