کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں پانی جمع کرنے کے لۓ بڑے بڑے تین تالاب بنے ہوئے ہیں جس میں انسان اور جانور سب کی ضروریات کے لۓ پانی جمع کیا جاتا ہے اور یہ پانی فقط بارشی ہوتا ہے، نہر وغیرہ کا اس پانی سے کوئی تعلق نہیں ،پھر ان تالابوں سے لوگ اپنی ضروریات مثلاً وضو ، برتن اور کپڑے وغیرہ دھونے کے لۓ لے جاتے ہیں ، اسی طرح اور دیگر ضروریات کے لۓ بھی، لیکن پینے کا پانی تین میل سے بھی زیادہ مسافت سے لایا جاتا ہے اور ان تالابوں سے جانور حتّٰی کہ کتّے بھی پانی پیتے ہیں اور پیشاب وپاخانہ بھی اندر ہی کر دیتے ہیں، کیا ایسے پانی سے وضو کرنا ، کپڑے، برتن دھونا جائز ہے؟ جب پاک پانی تین میل کی مسافت پر ہے تو تالاب کے ناپاک ہونے کی صورت میں تیمّم کرنے اجازت ہے؟ اور اب تک جو نمازیں تالاب سے وضو کر کے پڑھی ہیں، ان کی قضاء لازم ہے یا نہیں؟ واضح ہو کہ جو پانی ان تالابوں میں آتا ہے وہ مختلف جگہوں سے گھوم کر آتا ہے، جہاں گندگی وغیرہ بھی پڑی ہوتی ہے، براہ ِ کرم تفصیل سے آگاہ فرمائیں۔
نیز جب پیشاب وغیرہ کا اثر اور رنگ پانی میں ظاہر ہو جائے یا ظاہر نہ ہو ، دونوں صورتوں کا بالتفصیل حکم بیان کیجیۓ۔
مذکور تالاب اگر اس قدر بڑے اور ان میں اس قدر پانی ہو کہ جانوروں کے پیشاب اور پاخانہ سے ان کے پانی کا رنگ، بو اور مزہ تبدیل نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں ان کے پانی سے وضو و غسل کرنا، کپڑے دھونا یا دیگر گھریلو ضروریات میں استعمال کرنا یا ایسے پانی سے وضو وغیرہ کر کے نماز اور دیگر عبادات کا بجا لانا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے اور اگر پانی کے اوصافِ مذکورہ بدل جاتے ہوں تو پھر حکم بھی اس کے برعکس ہوگا۔
فی حاشية ابن عابدين: أن الضرورة داعية إلى العفو عن العين أيضا، فإن كثيرا من المحلات البعيدة عن الماء في بلادنا يكون ماؤها قليلا، وفي أغلب الأوقات يستصحب الماء عين الزبل و يرسب في أسفل الحياض، وكثيرا ما ينقص الحوض بالاستعمال منه أو ينقطع الماء عنه فلا يبقى جاريا ولا سيما عند كري الأنهر وانقطاع الماء بالكلية أياما فإذا منعوا من الانتفاع بتلك الحياض لما فيها من الزبل يلزمهم الحرج الشديد كما هو مشاهد، فاحتياجهم إلى التوسعة أشد من احتياج أرباب الدواب. وقد قال في شرح المنية: المعلوم من قواعد أئمتنا التسهيل في مواضع الضرورة والبلوى العامة كما في مسألة آبار الفلوات ونحوها اهـ أي كالعفو من نجاسة المعذور عن طين الشارع الغالب عليه النجاسة وغير ذلك، نعم في بعض الأوقات يزداد التغيير فينزل الماء إلى الحوض أخضر وفيه عين الزبل فينجس الحوض لو صغيرا وإن كان جاريا؛ لأن جريانه بماء نجس ولا ضرورة إلى الاستعمال منه في تلك الحالة فينتظر صفاؤه ثم يعفى عما في القساطل وما في أسفل الحوض، لما علمت من الضرورة من أن المشقة تجلب التيسير، ومن أنه إذا ضاق الأمر اتسع، والله تعالى أعلم اھ(1/ 189)۔