کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک فیکٹری میں مسلمان ملازمین کے ساتھ ایک عیسائی بھی ملازم ہے تو اب سوال طلب بات یہ ہے کہ آیا اس عیسائی کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا اس سے تعلق رکھنا، نیز اس کے ساتھ کھانا پینا یا اس عیسائی کے زیرِ استعمال برتن کو استعمال میں لانا یا اس کے زیرِ استعمال گلاس میں پانی پینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو پھر کس کس مذہب کے پیروکار کے مستعمل شدہ برتنوں کا استعمال جائز ہے؟
اگر کسی پاک و صاف برتن کو غیر مسلم نے استعمال کر لیا ہو تو محض اس کے استعمال سے وہ ناپاک نہیں ہوگا، بشرطیکہ برتن کے ساتھ کوئی نجاست وغیرہ نہ لگی ہو ،اور جہاں تک اس کے ساتھ شریک ہو کر کھانے کا تعلق ہے تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ معاملہ ایک آدھ مرتبہ پیش آجائے تو ساتھ کھانے کی بھی گنجائش ہے، تاہم غیر مسلموں کے ساتھ شریک ہو کر کھانے پینے اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے سے شریعتِ مطہرہ نے منع فرمایا ہے، اس لۓ اس سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (فسؤر آدمي مطلقا) ولو جنبا أو كافرا أو امرأة اھ(1/ 221)۔
وفی الفتاوى الهندية: ولم يذكر محمد - رحمه الله تعالى - الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط. (5/ 347)۔