کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص حالتِ جنابت میں اپنے بستر سے نیچے اُتر کر گھر کے کسی بھی حصہ میں جائے تو وہ حصہ ناپاک ہو جاتا ہے یا اگر وہ بغیر غسل کے گھر کی کسی بھی چیز کو ہاتھ لگالے تو وہ ناپاک ہوجائے گی یا نہیں؟ مطلقاً جنبی ناپاک ہے یا نہیں یا وہ دوسری چیزوں کو ناپاک کرتا ہے یا نہیں؟
جنبی کی نجاست حکمی ہے حقیقتاً نہیں، لہٰذا اس کا کسی چیز کو چھونا یا کہیں جانا اُس چیز کی نجاست کو مستلزم نہیں ، ہاں! اُسے چاہیۓ کہ ایسی حالت میں زیادہ دیر رہنے سے احتراز کرے۔
فی مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال: لقيني رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وأنا جنب فأخذ بيدي فمشيت معه حتى قعد فانسللت فأتيت الرحل فاغتسلت ثم جئت وهو قاعد فقال: «أين كنت يا أبا هريرة» فقلت له فقال: «سبحان الله إن المؤمن لا ينجس» . هذا لفظ البخاري ولمسلم معناه وزاد بعد قوله: فقلت له: لقد لقيتني وأنا جنب فكرهت أن أجالسك حتى أغتسل. وكذا البخاري في رواية أخرى اھ(1/ 141)۔
وفیه أیضاً: وعن عمار بن ياسر قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «ثلاث لا تقربهم الملائكة جيفة الكافر والمتضمخ بالخلوق والجنب إلا أن يتوضأ». رواه أبو داود اھ(1/ 144)۔