کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر سفید قطرے آنے کا مسئلہ ہو تو کیا غسل کرنا فرض ہے؟ اور کیا کپڑے بھی تبدیل کرنے ہوں گے؟ تاکہ ہر وقت پاک وصاف ہو۔ اس حالت میں پاک وصاف رہنے کے لیے کیا کرنا چاہیے، خاص طور پر نماز کی ادائیگی کےلیے؟
اگرچہ قطرے منی، مذی یا ودی کے ہوں اور بغیر شہوت کے کسی بیماری وغیرہ کی بناء پر نکل جاتے ہوں تو محض ناقضِ وضو ہیں۔ اس صورت میں محض متاثرہ حصہ کو دھو کر انہی کپڑوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ جبکہ منی کا شہوت کے ساتھ نکلنا موجبِ غسل ہے۔
ففي الدر المختار: (وفرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو وإلا فلا يفرض اتفاقا؛ لأنه في حكم الباطن (منفصل عن مقره) (الي قوله) (بشهوة) أي لذة ولو حكما كمحتلم اھ (1/ 159)
وفی رد المحتار:(قوله: بشهوة) متعلق بقوله منفصل، احترز به عما لو انفصل بضرب أو حمل ثقيل على ظهره، فلا غسل عندنا خلافا للشافعي كما في الدرر اھ(1/156)
وفی الدر المختار: (لا) عند (مذي أو ودي) بل الوضوء منه اھ(1/ 165)
وفی رد المحتار: (قوله: تنجس) أي: فيعتبر فيه القدر المانع كما مر في محله اھ (1/ 346) واللہ أعلم بالصواب!