کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا دورانِ نماز ریح نکلنے کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، وہ نماز چھوڑ کر پھر وضو کرنے جاتا ہے اور پھر آکر نماز شروع کرتا ہے، ابھی ایک یا دو رکعت بھی نہیں ہوتی کہ وضو پھر ناقض ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات یہ معاملہ رہتا ہے مثلاً: ایک دو دن یا اس سے بھی کم عرصہ ایسا گزرتا ہے کہ وہ ایک وضو سے نماز پڑھتا ہے اور پھر دوبارہ اس کا وہ مسئلہ شروع ہو جاتا ہے اور یہ معاملہ پورے دن اور کبھی بعض اوقات تک جاری رہتا ہے ، بیت الخلاء جانے کے باوجود صحیح نہیں ہوتا اور اکثر اوقات نماز کے لیے دوچار یا کبھی پانچ بار وضو کرنا پڑتا ہے اور کبھی تو پورا وقت ایسا گزر جاتاہے کہ وہ نماز کی چار رکعات بھی ایک وضو سے نہیں پڑھ سکتا اور کبھی چار تو پڑھ سکتا ہے، لیکن ساری نماز نہیں، کیا اس پر معذور کے احکام لگائے جائیں گے ؟ اگر پورے وقت میں وہ نماز ایک وضو سے نہیں پڑھ سکتا تو وہ نماز کو مؤخر کر کے جب صحیح ہو جائے تب پڑھے یا وقت کے ختم ہونے سے پہلے جس حالت میں بھی ہو پڑھ لے، چاہے وضو باقی رہے یا نہیں یا جب وہ اوّل وقت نماز پڑھنے کا ارادہ کرے اور پھر ایک دوبار وضو کر کے نماز پڑھ لے، چاہے نماز میں پھر وضو ٹوٹ گیا ہو؟ تسلی بخش جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ تلاوت کے وقت اگر ایسا ہو تو پھرکیا کرے؟
شخص ِمذکور کو اس بیماری کی وجہ سے اگر کبھی پورے ایک وقت نماز میں اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو جس میں وہ طہارتِ کاملہ کے ساتھ صرف فرض نماز ادا کر سکتا ہو تو اس صورت میں وہ شرعاً معذور ہے اور معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت کے لیے الگ وضو کر لیا کرے اور پھر اس وضو سے وہ تمام عبادات بجا لا سکتا ہے، اگرچہ اس دوران ریح بھی خارج ہو جائے، اس کی وجہ سے اس کا وضو نہیں ٹوٹےگا، البتہ دیگر نواقضِ وضو سے یہ وضو ختم ہو جائے گا اور اس کے بعد اس وقت میں دیگر عبادات کے لیے نئے سرے سے وضو کرنا لازم نہیں ہے۔ پھر اگر اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کا پورا ایک وقت ایسا گذر گیا کہ اس دوران ریح کا مذکور عذر لاحق نہ رہا ہو تو شرعاً معذوری والا حکم بھی نہیں رہےگا، بلکہ اس صورت میں مکمل طہارت حاصل کرنے کے بعد ہی نماز کی ادائیگی ہوگی جب تک کہ حسبِ سابق دوبارہ معذوری ظاہر نہ ہو جائے۔
ففی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (إلی قوله) (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) (إلی قوله) (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل اھ(1/ 305)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: أو انفلات ريح) هو من لا يملك جمع مقعدته لاسترخاء فيها نهر اھ(1/ 305) واللہ أعلم بالصواب!
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0