کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ:
ہمارے گھر میں روٹی پکانے کیلئے ایک ماسی آتی ہے، جو عین مغرب کے ٹائم آتی ہے، اور نماز نہیں پڑھتی ہے، ہم اہلِ خانہ اس کو بہت سمجھاتے ہیں، اور فضیلت اور وعیدیں بھی سناتے ہیں، مگر وہ کبھی کہتی ہے میرے کپڑے پاک نہیں، کبھی کہتی ہے، گھر میں پانی نہیں میرا بدن پاک نہیں، جب پاکی ناپاکی کی بات کرتی ہے ،تو ہم مجبوراً خاموش ہوجاتے ہیں، لیکن جب کپڑوں پر چھینٹیں وغیرہ بتاتی ہے، تو دل میں خیال آتا ہے کہ ،اللہ پاک نے اگر روزِ محشر یہ پوچھ لیا کہ ،تم صاحبِ استطاعت تھیں پانی وافر مقدار میں گھر میں تھا ،اور جوڑے بھی کئی عدد ہوتے تھے ،تو تم اس کو کچھ پانی اور ایک جوڑا دے کر نماز کی دعوت نہیں دے سکتی تھیں؟ کیوں کہ بقول اس کے اس کے ہاں پانی نہیں ہے، اور کپڑوں کی کمی ہے ،تو آپ مسئلہ واضح فرمادیں کہ، صرف ترغیب پر بری الذمہ ہیں یا پھر بھی پوچھ ہے؟ شکریہ!
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کو جب اللہ تعالیٰ نے مالی اعتبار سے وسعت عطا فرمائی ہے، تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی خادمہ کیلئے کپڑوں کا ایک پاک و صاف جوڑا منتخب کردے،اور اسے تاکید کردے کہ، جب نماز و عبادت کا وقت ہو تو یہ جوڑا استعمال کرلیا کرو، اور اسے پاک و صاف رکھا کرو، اور اگر مزید بھی دینے کی ضرورت ہو تو اسے دینے میں سائلہ کو ثواب ملے گا، اور اس کے بعد بھی وہ نماز، روزہ نہ کرے، تو سائلہ یا اس کے گھر والوں سے اس کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ واﷲ اعلم!