کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص ریل گاڑی میں سفر کرہا ہو ، دورانِ سفر نمازوں کے اوقات آجائیں اور گاڑی چل رہی ہو تو گاڑی میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز ہے تو تعیین قبلہ ضروری ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی اس مسئلہ کی وضاحت قرآن وحدیث کی روشنی میں فرمائیں۔
نماز کی ادائیگی کے لئے ریل گاڑی کا رکنا یا اس کا روکنا ممکن نہ ہو تو گاڑی میں فریضۂ نماز ادا کرنا جائز اور درست ہے اور اس کی ادائیگی کیلئے قبلہ رُخ ہونا بھی ضروری ہے اور تعیینِ قبلہ کیلئے یہ صورت اختیار کی جائے کہ باہر کی مساجد دیکھ کر اندازہ کرلیا جائے ورنہ اپنے قریب بیٹھے ہوئے مسافروں سے معلوم کرلیں اگر ان دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی ممکن نہ ہو یا کسی کو معلوم نہ ہو تو پھر تحرّی کریں یعنی اپنی رائے اور اندازہ سے ایک جہت متعین کرکے نماز پڑھ لیں پھر یہ جہت اگر موافق قبلہ ہو یا اس کے مخالف ہو ،نماز ادا ہوجائے گی۔
البتہ یاد رہے کہ تعیینِ قبلہ کیلئے اگر بالکل ہی کوشش نہیں کی گئی اور نہ خود کو معلوم ہو تو اس صورت میں کسی ایک رُخ پر نماز پڑھنا قطعاً درست نہ ہوگا اور یہ جو عام لوگوں میں مشہور ہے کہ سفر میں ہر رخ پر فرض نماز ہوجاتی ہے قطعاً غلط ہے۔
وفی الفتاویٰ الھندیہ: وان اشتبہت علیہ القبلۃ ولیس بحضرتہ من یسألہ عنہا اجتہد وصلی کذا فی الہدایۃ فان علم انہ اخطأ بعد ما صلی لا یعیدھا وان علم وہو فی الصلاۃ استدار الی القبلۃ وبنی علیہا کذا فی الزاہدی واذا کان بحضرتہ من یسألہ عنہا وہو من اہل المکان عالم بالقبلۃ فلا یجوز لہ التحری کذا فی التبیین ولو کان بحضرتہ من یسألہ عنہا فلم یسألہ وتحرّی وصلی فان أصاب القبلۃ جاز وإلا فلا کذا فی المنیتہ المصلی وہکذا فی شرح الطحاوی۔(ج۱، ص۶۴)۔