احکام نماز

فجر کی جماعت کھڑی ہوجانے کے بعد سنتیں پڑھنا کیسا ہے؟اگر فجر کی سنتیں رہ جائیں تو کب پڑھی جائیں ؟

فتوی نمبر :
59173
| تاریخ :
2000-09-08
عبادات / نماز / احکام نماز

فجر کی جماعت کھڑی ہوجانے کے بعد سنتیں پڑھنا کیسا ہے؟اگر فجر کی سنتیں رہ جائیں تو کب پڑھی جائیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں فجر کی سنتیں امام صاحب کے سلام پھیرنے سے پہلے کب تک پڑھی جاسکتیں ہیں؟ جماعت کی نماز کی پہلی یا دوسری رکعت میں شمولیت لازم ہے یا سلام میں شمولیت لازم ہے، اور اگر کسی وجہ سے فجر کی سنتیں فوت ہوگئی تو بعد میں پڑھے یا نہیں؟ اگر پڑھے تو کس وقت تک؟ فجر کی سنتوں کے بارے میں بندہ کو مطمئن فرماکر شکریہ کا موقع فراہم کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سنتیں پڑھنے سے فجر کی جماعت بالکلیہ فوت ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو بلکہ قعدۂ اخیرہ میں شامل ہونے کی توقع ہو تو اس وقت تک جماعت کی جگہ سے دور مسجد کے دروازے پر یا کسی ستون وغیرہ کی آڑ میں کھڑے ہوکر فجر کی سنتیں پڑھنی چاہیئں ،تاہم بہتر یہی ہے کہ جماعت کھڑی ہونے سے پہلے ہی فجر کی سنت پڑھی جائیں، اور فجر کی سنت اگر رہ جائیں تو اس کے حکم میں تھوڑی سی تفصیل ہے، وہ یہ کہ اگر فجر کی سنت تنہا فرض کے بغیر فوت ہوجائیں تو سورج نکلنے سے پہلے بالاتفاق ان کی قضاء نہیں، اور سورج طلوع ہونے کے بعد ان کی قضاء مختلف فیہ ہے،اور اگر فجر کی سنتوں کے ساتھ فرض بھی رہ گئے ہوں تو زوال سے پہلے پہلے فرضوں کی اتباع میں ان سنتوں کی قضاء پڑھنے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی رد المحتار: (قولہ ولا یقضیہا إلا بطریق التبعیۃ الخ) أی لا یقضی سنتہ الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فیقضیہا تبعًا لقضائہ لو قبل الزوال، وما اذا فاتت وحدہا فلا تقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع، لکراہۃ النفل بعد الصبح، واما بعد طلوع الشمس فکذٰلک عنہما۔ وقال محمد: أحب إلیّ أن یقضیہا إلی الزوال۔ (ج:۲، ص:۵۷)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59173کی تصدیق کریں
1     1638
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات