محترم ومکرم جناب مفتیانِ کرام جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی!
کیا کہتےہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب فرض نماز میں قعدۂ اولیٰ بھول جائے اور کھڑا ہو جائے ، پھر مقتدیوں کے کہنے پر قعدۂ اولیٰ کی جانب پھر لوٹ جائے یعنی اعلیٰ سے ادنیٰ کی طرف لوٹ جائے تو یہ نماز درست ہوئی یا نہیں؟ جبکہ قدوری ایچ ایم سعید کمپنی حاشیہ نمبر۶ صفحہ نمبر ۷۰ میں لکھا ہے کہ "بطلت صلاتہ"۔
مذکورہ صورت میں اگرچہ بعض فقہاءِ کرام نے فسادِ نماز کا حکم دیا ہے، مگر بعض دوسرے فقہاء نے جہالت کے عموم کی بناء پر اس صورت میں بھی سجدہ سہو کر لینے سے صحتِ نماز کا حکم بیان کیا ہے، اور اسی میں سہولت بھی ہے اور یہی راجح ہے۔
ففی الدر المختار: وإن استقام قائما (لا) يعود لاشتغاله بفرض القيام (وسجد للسهو) لترك الواجب (فلو عاد إلى القعود) بعد ذلك (تفسد صلاته) لرفض الفرض لما ليس بفرض وصححه الزيلعي (وقيل لا) تفسد لكنه يكون مسيئا ويسجد لتأخير الواجب (وهو الأشبه) كما حققه الكمال وهو الحق بحر اھ(2/ 84)۔