کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی بھی محکمے کے ملازم کو ، آفیسرز کے ڈر سے ، وقت کی قلت کی صورت میں بغیر غسلِ جنابت کے ڈیوٹی پر جانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
اگر جنبی آدمی بغیر غسلِ جنابت کئے رات والے (ناپاک کپڑے) اتار کر صبح کو دوسرے صاف کپڑے پہن کر ڈیوٹی وغیرہ کیلئے جائے اور وہاں بیٹھے بیٹھے پسینہ آنے یا استنجاء کرنے کی صورت میں ناپاک جسم کے ساتھ لگا ہوا پانی کپڑوں کو لگے تو اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ یہ کپڑے ناپاک ہوجائیں گے یا نہیں؟
برائے مہربانی جواب باحوالہ عنایت فرمائیں۔ شکریہ
جنبی آدمی کے پسینہ سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے، البتہ غسلِ جنابت کئے بغیر ڈیوٹی پر جاکر سارا دن جنابت کی حالت میں رہنے کی وجہ سے وہ شخص سخت گناہ گار ہوا ہے، جس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار اور آئندہ کیلئے احتراز بھی لازم ہے۔
وفی الہندیۃ: الجنب إذا اخر الاغتسال إلی وقت الصلوٰۃ لا یأثم۔ (ج۱، ص۱۶)-
وفی المرقاۃ: واتفقوا علی طہارۃ عرق الجنب والحائض۔ (ج۲، ص۱۵۳)-
وفی المرقاۃ: عن علیؓ قال قال رسول اﷲ ﷺ لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ صورۃٌ ولا کلب ولا جنب۔ قولہ ولا جنب أی الذی اعتاد ترک الغسل تہاونًا حتی یمر علیہ وقت صلوٰۃ فإنہ مستخف بالشرع۔ الخ (ج۲، ص۱۶۲)-