السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم مفتی صاحب میں امریکہ میں رہتا ہوں اور میں دعوت میں مصروف رہتا ہوں، پچھلے مہینے میں جماعت کے ساتھ لاطینی امریکہ گیا وہاں پر اور یہاں پر بھی ایک مسئلہ ہے کہ کچھ گروہ اہل کتاب کے گوشت کو حلال سمجھتے ہیں، اُن کے اپنے علماء بھی ہیں جو اُن کو اس سلسلہ میں درست قرار دیتے ہیں اور اس کیلئے وہ سورۃ المائدۃ کی آیت دلیل دیتے ہیں جو کہ اس گوشت کے بارے میں ہے جن کو اہل کتاب ذبح کرتے ہیں، ان کے نزدیک ضروری نہیں ہے کہ اہلِ کتاب بوقتِ ذبح اللہ کا نام لیں، اور اس بات کی بھی اجازت ہے کہ جانور کو مشین سے کاٹ لیا جائے، اس طرح وہ لوگ اس عام گوشت کو جو بازار سے اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا ملتا ہے حلال خیال کرتے ہوئے کھاتے ہیں۔
میں نے ان کے ایک شیخ سے بات کی تو اس نے کہا کہ اگر میں کوئی دلیل قرآن و سنت سے اس سلسلہ میں دے دوں اور کوئی وجہ بتاؤں کہ ہم اُس گوشت کو کیوں نہیں کھاسکتے جو اہلِ کتاب کا ذبح کیا ہوا ہو، اور مشین استعمال کرنے میں کیا قباحت ہے اور ہمارے اور اہل کتاب کیلئے یہ کیوں ضروری ہے کہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے، اس نے کہا کہ اگر دلیل کے ساتھ باتیں بتائی جائیں تو میں قبول کرلوں گا۔
مہربانی فرماکر کیا آپ اس سلسلہ میں کوئی روشنی ڈال سکتے ہیں اور کیا آپ قرآن وحدیث سے دلیل دے سکتے ہیں کیونکہ وہ عرب ہیں۔
دوسرا مسئلہ ان موزوں پر مسح کرنا ہے جو سوتی یا کسی اور کپڑے کے بنے ہوئے ہوں سوائے چمڑے کے، کیا آپ اس سلسلہ میں بھی کوئی دلیل اور وجوہات بیان کرسکتے ہیں کہ یہ کیوں ضروری ہے کہ مسح صرف چمڑوں کے موزوں پر کیا جائے نہ کہ کسی اور سوتی یا کسی اور چیز کے بنے ہوئے پر؟ مہربانی فرماکر حدیث کے ذریعے دلیل دیں کیونکہ وہ اسلامی ہیں، آپ کے جلد جواب کا منتظر۔
(۱)۔۔۔۔۔۔۔ اس میں شک نہیں کہ قرآنِ کریم نے اہلِ کتاب کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا موجودہ زمانے میں اہلِ کتاب ہونے کا دعویٰ کرنے والے واقعی اہلِ کتاب ہیں؟ اور جانور کے حلال ہونے کی شرائط ان کے ذبیحہ میں پائی جاتی ہیں یا نہیں؟ جاننا چاہئے کہ ذبح کے ذریعہ جانور کے حلال ہونے کیلئے چند اصولی شرائط ہیں:
۱۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والا مسلمان یا کتابی ہو، قرآنِ کریم کی سورۃ المائدۃ میں ارشاد ہے﴿وطعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم﴾ ’’اہلِ کتاب کے سوا دوسرے کفار کے ذبائح حرام ہیں‘‘۔ اس سلسلہ میں عام کفار میں سے اہلِ کتاب کو اس لئے مستثنی قرار دیا گیا ہے کہ اہلِ کتاب کا اپنا مذہب بھی ذبح کے معاملہ میں شریعتِ اسلامیہ کے مطابق ہے یعنی اُن کے نزدیک بھی بوقتِ ذبح جانور پر اللہ کا نام لینا ضروری ہے، اسی طرح قرآن و سنت کی تصریحات کے مطابق اہلِ کتاب سے مراد صرف یہود و نصاریٰ ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا آیات کی تفسیر میں منقول ہے [وطعام الذین اُوتوا الکتاب حل لکم یعنی ذبیحۃ الیہود والنصاریٰ] (تفسیر قرطبی: جلد ۲، ص۲۶)۔
یہود و نصاریٰ میں وہ لوگ داخل نہیں جو مذہباً دہریے ہیں، خداو رسول اور آخرت کے قائل ہی نہیں جیسا کہ آج کل اکثر یورپی عیسائیوں کا حال ہے کہ محض قومی طور پر وہ اپنے آپ کو مسیح یا عیسائی کہلاتے ہیں حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے ہی قائل نہیں، جس کی وجہ سے یہ قطعاً اہلِ کتاب کہلانے کے مستحق نہیں، یہی وجہ ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے زمانہ کے نصاریٰ بنی تغلب کے ذبیحہ کو حرام قرار دیا اور فرمایا کہ یہ لوگ دینِ عیسائیت میں سے سوائے شراب نوشی کے اور کسی چیز کو نہیں مانتے۔ (تفسیر قرطبی: جلد ۲، ص۲۶)۔
۲۔ جانور کے حلال ہونے کیلئے دوسری شرط جو زیادہ اہم ہے، یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے، قرآنِ کریم کی متعدد آیات میں اس شرط کو بہ تکرار ذکر فرمایا ہے، اور اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ صرف اس جانور کا گوشت کھاسکتے ہیں جس پر بوقتِ ذبح اللہ کا نام لیا گیا ہو، اور وہ جانور حرام ہے جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا یا غیر اللہ کا نام لیا گیا، قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: *
اسی طرح کی آیات سورۃ النحل (آیت ۱۱۵)، اور سورۃ المائدۃ آیت ۳، میں بھی ہیں اور احادیث بھی وارد ہوئی ہیں: *
۳۔ جانور کے حلال ہونے کیلئے تیسری شرط یہ ہے کہ شرعی طریقہ پر حلقوم اور سانس کی نالی اور خون کی رگیں کاٹ دی جائیں، ان میں سے کوئی دو (۲) بھی رِہ جائے تو وہ ذبیحہ حلال نہیں ہوگا، اس طریقہ کا اصطلاحِ شریعت میں ذکاۃ کہتے ہیں، قرآنِ کریم میں ارشاد ہے ﴿إلّا ما ذکّیتم﴾
(۲)۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح جانور کی گردن اوپر کی طرف سے کاٹ کر علیحدہ کردینا خواہ دستی چھری کے ذریعے ہو یا کسی مشین کے ذریعہ، ذبح کے شرعی طریقہ کے خلاف اور باتفاقِ جمہور ناجائز اور گناہ ہے۔
البتہ جو جانور اس ناجائز طریقہ سے ذبح کیا گیا ہے اُس کا گوشت حلال ہونے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر بٹن دبانے سے بیک وقت چھری سب جانوروں کی گردنوں پر آگئی اور بسم اللہ پڑھ کر بٹن دبادیا گیا تو یہ ایک بسم اللہ سب کیلئے کافی ہوسکتی ہے ورنہ یہ بسم اللہ صرف پہلے جانور کیلئے کافی ہوگی اور باقی جانوروں کیلئے یہ بسم اللہ معتبر نہ ہوگی اور یہ جانور باتفاق امت حرام اور مردار ہوں گے۔
پھر اس طرح گردن کے اوپر سے ذبح کئے ہوئے جانور، جن پر بسم اللہ پڑھنا بھی معتبر ہے، اُن کے حلال ہونے میں فقہاء صحابہ اور تابعین میں اختلاف ہے، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے اس کا حرام ہونا منقول ہے، بخاری شریف میں روایت ہے ’’فان ذبح من القفا لم توکل سواء قطع الرأس أو لم یقطع‘‘ (ج۲، ص۲۸۲) اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اس طریقۂ ذبح کے ناجائز اور گناہ ہونے کے باوجود اس کے گوشت کو حلال قرار دیتے ہیں۔ (بخاری کتاب الذبائح)
اس لئے مسلمانوں کو جہاں تک قدرت ہو اس سے بچیں اور اپنے ملکوں میں اس کے رواج کو بند کریں اور جن علاقوں میں مسلمان اس طریقہ کے بدلنے پر قادر نہیں اور گوشت کی ضرورت بہرحال ہے ان کیلئے مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ اس گوشت کا استعمال کرنا جائز ہوگا، ان میں سے ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو حرام ہوگا:
۱۔ مشین کے ذریعہ ذبح کرنے والا آدمی مسلمان یا یہودی یا نصرانی ہو۔
۲۔ مشین کی چھری جانوروں کی گردن تک پہنچاتے وقت اس نے اللہ کا نام خالص لیا ہو یعنی بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا ہو۔
۳۔ یہ چھری جتنے جانوروں کی گردن پر بیک وقت پڑی ہے وہ جانور ممتاز اور الگ ہوں، دوسرے جانور جن پر چھری بعد میں پڑی ہے اور وہ مردار ہیں ان کا گوشت پہلے جانوروں کے گوشت کے ساتھ مخلوط نہ ہوگیا ہو، مگر ظاہر ہے کہ باہر سے جانے والوں اور مختلف علاقوں کے رہنے والے مسلمانوں کو ان شرائط کے پورے ہونے کا علم ہونا آسان نہیں اس لئے اجتناب ہی بہتر ہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ اصل فریضہ پاؤں کا دھونا ہے جو نصِّ قرآنی سے ثابت ہے، مگر خفین پہننے کی صورت میں احادیثِ متواترہ سے ثابت ہوگیا کہ مسح بھی کافی ہے، لہٰذا اس کو بھی دھونے کے حکم میں داخل کرکے جائز قرار دیا گیا ہے، اب اس حکم کو خفین سے متجاوز کرکے اُونی، سوتی اور نائیلون کے جرابوں میں جاری کرنا اس شرط کے ساتھ جائز ہوگا جبکہ ان جرابوں کا بحکم خفین ہونا اور تمام شرائطِ خفین کا اِن میں متحقق ہونا یقینی طور پر ثابت ہوجائے اگر شرائط خفین متحقق نہ ہوں تو اس کا بحکم خفین ہونا اور اس پر مسح کا جائز ہونا بھی متحقق نہیں ہوگا، چنانچہ مشاہدہ سے ثابت ہے کہ آج کل کے اونی، سوتی اور نائیلون وغیرہ کی جرابوں کا گاڑھا اور صفیق ہونا اور بغیر ربڑ وغیرہ کے پنڈلی کے ساتھ چپکے رہنا وغیرہ جیسے خفین کی جو صفات ہیں ان میں نہیں پائی جاتیں، لہٰذا اس قسم کے موزوں پر مسح کرنا قرآنِ کریم کی نصّ صریح سے اعراض کے مترادف ہے جس سے احتراز واجب ہے۔
بعض روایات میں جرابوں پر مسح کرنے کا ذکر آیا ہے تو اس سلسلہ میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ روایات بہت ہی ضعیف اور کمزور درجہ کی ہیں اور آئمہ حدیث نے ان پر شدید تنقید بھی کی ہے، اس لئے قرآنِ کریم نے پاؤں دھونے کا جو صریح حکم دیا ہے اُسے صرف ان ضعیف روایات کی بناء پر نہیں چھوڑا جاسکتا، امام ابوبکر جصاصؒ نے اپنی کتاب احکام القرآن میں فرماتے ہیں: *
دوسری بات یہ ہے کہ جن روایات میں جرابوں پر مسح کرنے کا ذکر آیا ہے اگر ان کو صحیح بھی تسلیم کرلیں تب بھی ان میں یہ کہیں صراحت نہیں ہے کہ وہ جرابیں کپڑے کے باریک موزے تھے، جس سے باریک موزوں پر مسح کا جواز ثابت ہو، مشہور سلفی عالم علامہ شمس الحق عظیم آبادی لکھتے ہیں: *
بلکہ اس کے برعکس روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ جرابیں جن پر مسح کرنے کا روایت میں ذکر ہے وہ یا تو چمڑے کی تھیں یا اپنی موٹائی کی وجہ سے چمڑے کے موزوں کی طرح گاڑھی اور موٹی تھیں اور ان میں چمڑے کے موزوں کی صفات پائی جاتی تھیں، جیسا کہ روایات میں ذکر ہے۔ *
* ۱۔ ﴿ولا تأکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانّہ لفسق﴾ (سورۃ الانعام: ۱۲۲)۔
۲۔ ﴿فاذکروا اسم اللہ علیہا صواف﴾ (سورۃ الحج: ۳۶)۔
۳۔ ﴿ولکل جعلنا منسکا لیذکروا اسم اللہ علیٰ ما رزقہم من بہیمۃ الانعام﴾ (سورۃ الحج: ۳۴)۔
۴۔ ﴿وأنعام لا یذکرون اسم اللہ علیہا افتراء علیہ﴾ (سورۃ الانعام: ۱۳۸)۔
۵۔ ﴿إنما حرّم علیکم المیتۃ والدّم ولحم الخنزیر وما أہلّ بہ لغیر اللہ﴾ (سورۃ البقرۃ: ۲۰۳)۔
* ۱۔ عن رافع بن خدیجؓ أنّ النبی ﷺ قال ما أنھر الدّم وذکر اسم اللہ علیہ فکلوہ لیس السّن والظفر۔ (بخاری: ج۲، ص۸۲۷، ابو داؤد: ج۲، ص۳۴، نسائی: ج۲، ص۳۰۵)۔
۲۔ عن عدی بن حاتم ؓ فیما رواہ: فقال: أمرر الدّم بما شئت واذکر اسم اللہ عزوجل۔ (ابو داؤد: ج۲، ص۳۴، نسائی: ج۲، ص۲۰۵)
۳۔ وقال ﷺ فلیذبح علی اسم اللہ۔ (بخاری: ج۲، ص۸۲۷)
*والأصل فیہ أنّہ قد ثبت أنّ مراد الآیۃ الغسل علی ما قدّمنا فلو لم ترد الآثار المتواترۃ عن النبی ﷺ فی جواز المسح علی الخفین ۔۔۔۔۔ ولما لم ترد الآثار فی جواز المسح علی الجور بین فی وزن ورودھا فی المسح علی الخفین أبقینا حکم الغسل علی مراد الآیۃ۔ (ج٢، ص٤٢٨)
* ان الجورب یتخذ من الأدیم وکذا من الصوف وکذا من القطن ویقال لکلّ من ھٰذہ أنّہ جورب ومن المعلوم أنّ ھٰذہ الرّخصۃ بھٰذا العموم لا تثبت الّا بعد أن یثبت انّ الجور بین اللّذین مسح علیھما النبی ﷺ کانا من الصوف۔ اھـ (عون العباد: ج۲، ص۶۲)۔
* عن قتادۃ عن سعید بن المسیّب والحسن أنّھما قالا یمسح علی الجوربین اذا کانا صفیقین۔ (مصنّف ابن ابی شیبۃ: ج۲، ص۱۸۸) واللہ تعالٰی اعلم