اگر ماں بچوں کی شادی میں تا خیر کرے تو کیا اولاد کو خود شادی کر لینی چاہیے،جبکہ با پ یا کوئی اور مدد کرنے والا نہ ہو، کوئی وظیفہ بھی بتا دیں تاکہ جلد گھر بس جائے، کیوں کے آج کل دیر سے شادی ایک فیشن بن گیا ہے، میرا خیال ہے یہ بہت سی برائیوں کی وجہ ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اولاد کی بلوغت کے فوراً بعد ان کی شادی کا انتظام کر دیں، اس میں بلاوجہ تاخیر کرنا کئی خرابیوں اور بے حیائی کو جنم دیتا ہے، جس سے احتراز کی ضرورت ہے، تاہم اگر تاخیر کی کوئی خاص یا خاندانی وجہ ہو تو اولاد کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ والدین کے مشورے اور رضامندی کے بغیر اپنی مرضی سے شادی کر لیں، کیونکہ ایسی شادی میں برکت نہیں ہوتی اور انجام کار ایسی شادیوں کا سوائے جھگڑے، فساد ، طلاق کے اور کچھ نہیں ہوتا ۔لہٰذا سائلہ کو چاہیے کہ وہ اپنے عزیز و اقارب کے ذریعے والدہ کو اپنی شادی کے لئے رضا مند کرے یہی اس کے حق میں بہتر اور درست ہے اور ایسا ہی کرنا چا ہیے۔اس کے ساتھ ساتھ نمازِ عشاء کے بعد سونے سے پہلے”یَا رَحِیْمُ یَا وَدُوْدُ“کا چالیس دنوں تک روزانہ گیارہ سو(۱۱۰۰) مرتبہ وظیفہ کرنا اور اس کے بعد دعا کرنا بھی بہت مجرب اور مفید عمل ہے۔