پیشاب کرنے کے بعد کبھی کبھی مذی کے قطرے آتے ہیں ، اس کے لیے تو صرف وضو سے پاک ہو جاتی ہے ، جب پیشاب کرنے کے فوراً بعد نماز پڑھنی ہوتی ہے، تو رکوع میں جاتے ہوئے محسوس ہو تا ہے کہ کچھ نکل رہا ہے ، تو ایسی حالت میں نماز کا کیا حکم ہو گا ؟ اور کپڑوں کے پاکی ناپاکی کا کیا حکم ہو گا ؟
سائل کو اگر پیشاب کرنے کے بعد کچھ وقت کے لیے قطرے آتے ہوں، تو سائل کو چاہیئےکہ نماز سے کچھ وقت قبل پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد اطمینان کیا کرے ، اور جب قطرے آنا بند ہو جائیں ، تو اس وقت وضو کر کے نماز پڑھنے کا اہتمام کرے، البتہ اگر سائل نے کسی وقت پیشاب کے فوری بعد وضو کر کے نماز شروع کر دی ، اور نماز کے دوران سائل کو پیشاب کے قطرے آئیں، تو اس سے سائل کا وضو ٹوٹ جائے گا ، اور اس کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی۔ لہٰذا اس کے بعد سائل کے ذمہ دوبارہ وضو کرنا اور بدن یا کپڑوں میں جس جگہ ناپا کی لگی ہو ، اس کو دھو کر پاک کرنا لازم ہو گا۔
ففی حاشية ابن عابدين: تحت: (قوله: وفي حق الزوال) أي: زوال العذر، وخروج صاحبه عن كونه معذورا (قوله: تمام الوقت حقيقة) أي: بأن لا يوجد العذر في جزء منه أصلا فيسقط العذر من أول الانقطاع؛ حتى لو انقطع في أثناء الوضوء أو الصلاة ودام الانقطاع إلى آخر الوقت الثاني يعيد؛ ولو عرض بعد دخول وقت فرض انتظر إلى آخره، فإن لم ينقطع يتوضأ ويصلي ثم إن انقطع في أثناء الوقت الثاني يعيد تلك الصلاة اھ(1/ 305)
ففي الدر المختار: (وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى اھ(1/ 306)