محترم جناب مفتی صاحب! السلام عليكم! ” یَا عَبْدَالْقاَدِرِ شَیْئاً للہ“کہنا کیسا ہے،اور شریعت کی رو سے اس کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ مذکور وظیفہ کا پڑھنا کسی طرح سے بھی جائز نہیں، اگر شیخ قُدِّسَ سِرُّہٗ کو”عالم الغیب و متصرف مستقل“ جان کر کہتا ہے، تو یہ شرک ہے، کیونکہ اس جملہ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، پہلا یہ کہ شیخ سے مانگے”یَا شَیْخُ أعْطِنِیْ شَیْئًا لله“کہ ائے شیخ اللہ کے لئے مجھے عطاء کرو اور دوسرا مطلب یہ بھی کہ”کچھ حق تعالیٰ کو دُو“ جو کہ صریح کفر اور شرک ہے، لہٰذا اس قسم کے جملوں کے بولنے سے احتراز لازم ہے۔(ماخوذ از فتاوی رشیدیہ)