السلام علیکم!
بعد سلام مسنون عرض یہ ہے کہ خالد کا اس کی خالہ زاد بہن فاطمہ کے ساتھ بچپن میں ہی رشتے کی بات چلی تھی، اور یہ بات خالد کی ماں ، خالہ اور نانی کے درمیان تھی، اور خود خالد کو بھی اس کا علم تھا، خالد کے بھائی کو اس سلسلے میں کچھ بھی پتا نہیں تھا، ہوا یہ کہ خالد کا بھائی ( ماجد) اور خالد کی دوسری خالہ کے لڑکے ( ساجد ) نے ملکر فاطمہ ( جس کے ساتھ خالد کے رشتے کی بات چلی تھی) کو محبت نامہ لکھ دیا ، جب فاطمہ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا ، اور یہ کہنے لگی کہ میں تم دونوں ( ماجد اور ساجد ) کو بھائی سمجھتی تھی اور تم نے ایسی غلط حرکت کی، اور یہ بات فاطمہ کی والدہ کو بھی پتا چل گئی، ( فاطمہ کے والد بقیدِ حیات نہیں ہیں ) اب غصہ کی وجہ سے فاطمہ کی والدہ نے فاطمہ کا نکاح خالد کے ساتھ کرنے سے انکار کر دیا، خالد کا پوچھنا یہ ہے کہ کیا فاطمہ سے نکاح کسی وظیفہ پر عمل کر کے ہو سکتا ہے کہ نہیں؟ اگر ہو سکتا ہو تو کوئی ایسا وظیفہ بتادیں جس سے یہ آپسی اختلاف دور ہو جائیں، اس کی طرف رہنمائی فرمادیجیے۔ بینوا توجروا
خالد کے گھر والوں کو چاہئیے کہ اپنے رشتہ داروں کے معزز افراد کو رشتہ کے لئے خالہ کے گھر بھیجیں اور معافی تلافی کر کے اس رشتے کو بحال کرنے کی کوشش کریں اور اس کے ساتھ خالد خود بھی اس آیت کریمہ
(وَأَلّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فی الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللّٰهَ أَلْفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ)
کا ورد ہرفرض نماز کے بعد گیارہ مرتبہ کرے، ”ان شاء اللہ“ امید ہے کہ اللہ تعالیٰٰ دوبارہ رشتہ کو بحال اور اختلافات دور فرمادیں گے۔