کیا میلاد منانا جائز ہے ؟ اور میلاد کے اختتام پر کھڑے ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا کیا شرعی طور پر جائز ہے ؟
حضور اکرم ﷺ کی سیرت و حالات پر مسلمانوں کو مطلع کرنا اسلام کا اہم ترین فرض ہے اور ساری تعلیمات اسلامیہ کا خلاصہ ہے، اگر کوئی مسلمان حضور کی ولادت، معجزات ، غزوات و غیرہ کا ذکر بطرز وعظ و درس بغیر پابندی رسوم کے کرے تو بے شمار برکتوں کا باعث ہو گا، مگر اس کو کسی خاص مہینہ ، دن ، تاریخ اور مخصوص طریقہ کے ساتھ مقید کرنا اور اس قسم کی مجالس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا اعتقاد اور اس نظریہ سے قیام کرنا اور اسی طرز کو ذکر مبارک کے لیے لازم سمجھنا اور جو ایسا نہ کرے اس کو نظر حقارت سے دیکھنا اور اس کو مختلف القاب سے نوازنا ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے ایک جائز، بلکہ مستحب امر بھی بدعت بن جاتا ہے ، چہ جائیکہ ایسا امر جس کا قرون مشهود لها بالخیر (صحابہ ، تابعین، تبع تابعین) سے کوئی ثبوت نہ ہو، نیز یہ طریقہ حضور ﷺ کے وسیع اور عمومی ذکر کو محدود کرنے کے مترادف ہے، اس لیے 12 ربیع الاول کو عید میلاد النبی کے نام پر مجالس منعقد کر کے مختلف ناجائز اور غیر ثابت شدہ امور کے اہتمام سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (3)} [المائدة: 3]
و في المعجم الكبير للطبراني : عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «اتَّبِعُوا، وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ، كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» الحديث (154/9)
وفي الفتاوى البزازية: وقد صح عن ابن مسعود رضى الله عنه انه سمع قوماً اجتمعوا في مسجد يهللون و يصلون عليه الصلوة والسلام جهراً فراح اليهم ، فقال ما عهدنا ذالك على عهد عليه السلام وما اراكم الا مبتدعين ، فمازال يذكر ذالك حتى اخرجهم عن المسجد اهـ (378/6)
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0