عرس و میلاد

عید میلاد النبیﷺ کا حکم

فتوی نمبر :
79656
| تاریخ :
حظر و اباحت / بدعات و منکرات / عرس و میلاد

عید میلاد النبیﷺ کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ موجودہ دور میں نبی کریمﷺ کی ولادت کی خوشی منانے کا جو معمول اور رواج ہوگیاہے آیا یہ درست ہے ؟ اور نبی کریمﷺ کی ولادت کونسی تاریخ کو ہے اور میلاد میں جلوس وغیرہ نکالنا صحیح ہے؟
شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اوّلاً تو حضورعلی الصلوٰة والسلام کی ولادتِ مبارکہ کی تاریخ میں اختلاف ہے بعض حضرات نے دو، بعض نے آٹھ ربیع الاول، بعض نے نو اور بعض نے بارہ ربیع الاوّل کا قول نقل کیا ہے اس لئےبارہ ربیع الاوّل ہی کو یہ دن منانا قرینِ قیاس نہیں جبکہ بارہ ربیع الاوّل کو آپ علیہ السلام کے دنیا سے پردہ فرماجانے کی تاریخ میں کسی کو اختلاف نہیں، پھر اگر اس طرح تاریخِ ولادت منانا کوئی کارِ خیر ہوتا تو خود نبی کریمﷺ، حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین، تبع ِتابعین رحمہم اللہ جو امورِ خیر میں انتہائی حریص تھے وہ کبھی بھی اس کام میں پیچھے نہ رہتے۔ حالانکہ نبوت ملنے کے تئیس سال بعد تک خود آپﷺ حیات رہے مگر نہ تو آپﷺ نے اس دن کو منایا نہ خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں کبھی منایا گیا اور نہ ہی تابعین وتبع تابعین رحمہم اللہ کے دور میں کبھی منایا گیا پھر ایسا کام جسے خیر القرون میں باوجود فرصت کے نہ کیا گیا ہو اس کو باعثِ ثواب سمجھ کر کرنا بلا شبہ بدعت ہے جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ جبکہ مذکورہ فعل میں قطعِ نظر بدعات ہونے سے , ایسے اُمور کا ارتکاب کیا جاتاہے جو شرعاً جائز نہیں اس لئےیہ فعل واجب الترک ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی المشکٰوة: عن العرباض بن ساریه قال صلی بنا رسول اللہﷺ ذات یوم ثم أقبل علینا بوجهه فوعظنا موعظة بلیغة (الٰی قوله) فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المهدیین تمسکوا بها وعضوا علیها بالنواجذ وایّاکم ومحدثات الأمور کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة. (ص: ۲۹، ۳۰)-
وفی القول المعتمد فی عمل المولد: کان ملکا مسرفا یأمر علماء زمانه أن یعملوا باستنباطهم واجتهادهم وان لا یتبعوا المذهب غیره حتی مالت الیه جماعة العلماء وطائفة من الفضلاء ویحتفل لمولد النبیﷺ فی الربیع الاوّل وهو اوّل من أحدث من الملوك هذا العمل. (ص: ۱۶۲)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 79656کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • عرس اور میلاد منانے اور کونڈوں اور مرنے کے بعد قل شریف پڑھنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   عرس و میلاد 0
  • میلاد، نیاز، چہلم،کونڈے اور قادیانی کے گھر کے کھانے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • بارہ ربیع الاول کے دن چندہ کر کے ثواب کی نیت سے کچھ پکا کر صدقہ کرنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 2
  • عید میلادالنبی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • منی کی راتوں میں عورتوں کا میلاد پڑھنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 1
  • عید میلاد النبی کی اسلام میں کیا حقیقت ہے؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبی منانے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • بارہ ربیع الأول کو حلوہ پکانا اور غریبوں میں تقسیم کرنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عرس منانے کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   عرس و میلاد 0
  • نبی کریمﷺ کی سیرت بیان کرنے کے لئےجلسہ منعقد کر نے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبی منا نے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • چہلم کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • محفلِ میلاد کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • کیاعرس منانا اور اس میں شرکت کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • میلاد کاکھانا کھانا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • میلاد منانا اور تاریخ وفات کی تحقیق

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • میلاد منانا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • برتھ ڈے کیک بناکر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبیﷺ کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   عرس و میلاد 1
  • میلاد منانے کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
Related Topics متعلقه موضوعات