رات کو مذی نکلنے کا گمان ہو جس کا نشان ہو، بلکہ صبح مذی کی بدبو محسوس ہو تو کیا کپڑے ناپاک ہوجائیں گے؟ اور کیا دھونے واجب ہوں گے؟
سائل کو جب تک بدن اور کپڑوں پر مذی لگنے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو تو اس وقت تک صرف بدبو کی وجہ سے بدن اور کپڑے ناپاک نہ ہوں گے ، لہذا ان کپڑوں اور بدن کو دھونا شرعاً لازم نہیں ، تاہم دِلی اطمینان کےلیے اگر دھولیے جائیں تو حرج بھی نہیں ۔
فی الدر المختار: ولو شك في نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر۔ اھ(1/ 151)
وفی رد المحتار: (قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن ۔اھ (1/ 151)
وفی الأشباه والنظائر: وفي المجتبى إذا شك أنه كبر للافتتاح أو لا؟ أو هل أحدث، أو لا، أو هل أصابت النجاسة ثوبه، أو لا، أو مسح رأسه، أو لا استقبل إن كان أول مرة وإلا فلا ۔اھ (1/51) واللہ اعلم بالصواب!