نجاسات اور پاکی

مذی کی بو محسوس ہو تری نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
47937
| تاریخ :
2021-10-31
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

مذی کی بو محسوس ہو تری نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

رات کو مذی نکلنے کا گمان ہو جس کا نشان ہو، بلکہ صبح مذی کی بدبو محسوس ہو تو کیا کپڑے ناپاک ہوجائیں گے؟ اور کیا دھونے واجب ہوں گے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو جب تک بدن اور کپڑوں پر مذی لگنے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو تو اس وقت تک صرف بدبو کی وجہ سے بدن اور کپڑے ناپاک نہ ہوں گے ، لہذا ان کپڑوں اور بدن کو دھونا شرعاً لازم نہیں ، تاہم دِلی اطمینان کےلیے اگر دھولیے جائیں تو حرج بھی نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: ولو شك في نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر۔ اھ(1/ 151)
وفی رد المحتار: (قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن ۔اھ (1/ 151)
وفی الأشباه والنظائر: وفي المجتبى إذا شك أنه كبر للافتتاح أو لا؟ أو هل أحدث، أو لا، أو هل أصابت النجاسة ثوبه، أو لا، أو مسح رأسه، أو لا استقبل إن كان أول مرة وإلا فلا ۔اھ (1/51) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47937کی تصدیق کریں
0     974
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات