حضرت مفتی صاحب!
اگر ناپاکی کا ایک قطرہ گر جائے تو کیا اس کے لۓ غسل واجب ہے یا ناپاک جگہ کو دھو کر وضو کرنا کافی ہے؟ اور ناپاک جگہ کو تین بار دھونا ضروری ہے یا ایک دو بار صحیح طرح دھو لینا کافی ہے ؟ اگر پرندے کی گندگی کپڑوں پر گر جائے تو اس کے لۓ کپڑوں کو تین بار دھونا ضروری ہے یا ایک دو بار پورے کپڑوں کو دھونا لازمی ہے یا صرف خراب جگہ کو ؟ میرا ایک بہت سنگین مسئلہ یہ ہے کہ مجھے سیکسی فلم دیکھنے کی عادت ہوگئی ہے، میں اس سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں اور اللہ سے معافی بھی مانگتا ہوں ، پھر وہی گناہ کر بیٹھتا ہوں، جس کی وجہ سے میری نماز بھی نہیں ہو پاتی ، میں ٹی وی وغیرہ دیکھنے تک یہ کرتا ہوں، لیکن پریکٹیکل زندگی میں کسی کو گرل فرینڈ بنانا ، یا ایسی جگہ چلے جانا جہاں یہ فخش کام ہوتے ہیں ، نہیں کرتا اور نہ ہی راستے میں کوئی اچھی لڑکی نظر آئی تو اس کو گھیرنا شروع کر دیا ، یہ عادت بھی نہیں ہے، مگر صرف فلم وغیرہ کا دیکھنا میرے لۓ سنگین مسئلہ بن گیا ہے، اس سے نجاست حاصل کرنے کے لۓ آپ میرے لۓ دعا فرمائیں، تا کہ اس گناہ سے بچ جاؤں اور اس کے لۓ کوئی مدد یا وظیفہ ہو ، تو وہ بھی بتا دیں۔
اگر بدن کے کسی حصے اور جزو سے خون ، پیپ ، پیشاب یا پاخانہ کپڑوں کو لگ جائے اور بدن پر زخم بھی نہ ہو ، تو اس صورت میں بدن اور کپڑوں کے متأثرہ حصہ کو پاک کرنا لازم ہے، خواہ ایک مرتبہ دھونے سےہی زائل کیوں نہ ہو ، ورنہ تین مرتبہ دھونا چاہیۓ ، جبکہ اس قطرہ کا خروج ناقضِ وضو بھی ہے ، اس لۓ اس کے بعد وضو بھی لازم ہے۔
جبکہ سیکسی فلمیں دیکھنا حرام ہے ،ہمت کر کے اس سے بچنے کا اہتمام کریں۔
فی الفتاوى الهندية : فلو زالت عينها بمرة اكتفى بها و لو لم تزل بثلاثة تغسل إلى أن تزول ، كذا في السراجية اھ (1/ 41)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله : و أثرها) يأتي بيانه قريبا . (قوله : و لو بمرة) يعني إن زال عين النجاسة بمرة واحدة تطهر ، سواء كانت تلك الغسلة الواحدة في ماء جار أو راكد كثير أو بالصب أو في إجانة ، أما الثلاثة الأول فظاهر اھ (1/ 328)۔