نجاسات اور پاکی

ماءِ کثیر کی مقدار اور اس کا حکم

فتوی نمبر :
44391
| تاریخ :
2021-03-14
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

ماءِ کثیر کی مقدار اور اس کا حکم

پانی کی کتنی مقدار ماءِ کثیر کہلاتی ہے ، کیا ماءِ کثیر میں نجاستِ غلیظہ کی تھوڑی سی مقدار گر جائے اور پانی کا ذائقہ ، خوشبو اور رنگ تبدیل نہ ہو تو کیا وہ تمام پانی پاک رہتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ پانی کی چکور ٹینکی یا حوض جو دس ذراع لمبا اور دس ذراع چوڑا ہو ، اور گول شکل کی ٹینکی یا حوض جو تقریباً ۳۶؍(چھتیس) ذراع کے برابر ہو تو ایسی ٹینکی یا حوض کا پانی ماءِ کثیر کے حکم میں ہے ، لہٰذا ایسے پانی میں نجاست گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا جب تک کہ پانی کا رنگ ، بو ، ذائقہ میں سے کوئی بھی ایک وصف تبدیل نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی رد المختار : و كذا یجوز براكد كثیر كذلك ای وقع فیه نجس لم یر اثره و لو فی موضع وقوع المرئیة به یفتی بحر ، و المعتبر فی مقدار الراكد رای المبتلی به فیه فان غلب علی ظنه عدم خلوص ای وصول النجاسة الی الاجانب الاخر جاز و الا لا (الی قولہ) فلذا افتی به المتاخرون الاعلام ای فی المریع باربعین و فی المدور بستة و ثلاثین و فی المثلث من كل جانب خمسة عشر و ربعا او خمسا بذراع الكرباس و لو له طول لا عرض لكنه یبلغ عشرا فی عشر جاز تیسیرا . اهـ (ج۱، ص۱۰۱)۔
و فی الدر المختار : و بتغیر احد اوصافه من لون او طعم او ریح ینجس الكثیر و لو جاریا اجماعا اما القلیل فینجس و ان لم یتغیر . اهـ (ج۱، ص۳۶۷)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعباس مياں عابد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 44391کی تصدیق کریں
0     2459
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات