پانی کی کتنی مقدار ماءِ کثیر کہلاتی ہے ، کیا ماءِ کثیر میں نجاستِ غلیظہ کی تھوڑی سی مقدار گر جائے اور پانی کا ذائقہ ، خوشبو اور رنگ تبدیل نہ ہو تو کیا وہ تمام پانی پاک رہتا ہے؟
واضح ہو کہ پانی کی چکور ٹینکی یا حوض جو دس ذراع لمبا اور دس ذراع چوڑا ہو ، اور گول شکل کی ٹینکی یا حوض جو تقریباً ۳۶؍(چھتیس) ذراع کے برابر ہو تو ایسی ٹینکی یا حوض کا پانی ماءِ کثیر کے حکم میں ہے ، لہٰذا ایسے پانی میں نجاست گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا جب تک کہ پانی کا رنگ ، بو ، ذائقہ میں سے کوئی بھی ایک وصف تبدیل نہ ہو۔
كما فی رد المختار : و كذا یجوز براكد كثیر كذلك ای وقع فیه نجس لم یر اثره و لو فی موضع وقوع المرئیة به یفتی بحر ، و المعتبر فی مقدار الراكد رای المبتلی به فیه فان غلب علی ظنه عدم خلوص ای وصول النجاسة الی الاجانب الاخر جاز و الا لا (الی قولہ) فلذا افتی به المتاخرون الاعلام ای فی المریع باربعین و فی المدور بستة و ثلاثین و فی المثلث من كل جانب خمسة عشر و ربعا او خمسا بذراع الكرباس و لو له طول لا عرض لكنه یبلغ عشرا فی عشر جاز تیسیرا . اهـ (ج۱، ص۱۰۱)۔
و فی الدر المختار : و بتغیر احد اوصافه من لون او طعم او ریح ینجس الكثیر و لو جاریا اجماعا اما القلیل فینجس و ان لم یتغیر . اهـ (ج۱، ص۳۶۷)۔