کیا مالی مشکلات کے شکار بھائی کو جن پر بہت قرض بھی ہے ، زکوٰۃ دینا جائز ہے؟ اور اسے بتائے بغیر بھی دی جاسکتی ہےکہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے؟، دوسرےبھائی نے اپنی آمدنی میں سے تین فیصد اللہ کی راہ میں دینے کا ارادہ کیا ہے، کیا یہ رقم بھی بھائی کو دے سکتے ہیں؟
بھائی اگر قرض وغیرہ کی وجہ سےزکوٰۃ کا مستحق بن چکا ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو، تو دوسروں کی بنسبت بھائی کو زکوٰۃ دینا یا نفلی صدقات کے ذریعے اس کا تعاون کرنا افضل اور بڑے اجر کا باعث ہے،اور اس میں زکوٰۃ کا بتانا بھی ضروری نہیں ۔
کما فی الھندیة: والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات الخ (1/ 190)۔