میں باقاعدگی کے ساتھ حسب توفیق صدقہ کا اہتمام کرتا ہوں، لیکن اس کے باوجود ہر سال میر ا چھوٹا موٹا نقصان ہو جاتا ہے جیسے کبھی مسجد سے جوتے چوری ہو جاتے ہیں تو کبھی گاڑی پر کوئی سامان گم جاتا ہے، میراذریعہ معاش بھی سو فیصد حلال ہے الحمد للہ ، میں بہت پریشان ہوں، راہ نمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ صدقہ بلاشبہ بلاؤں کو ٹالتا ہے، اس لیے سائل کو حسب سابق صدقہ کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے، تاہم یہ بھی جان لینا چاہیے کہ مؤمن پر بعض دفعہ مصیبتیں آتی ہیں تاکہ وہ جب اس پر صبر کرے تو اس کے گناہ معاف ہوں، درجات بلند ہوں جبکہ بعض دفعہ کسی شخص پر کوئی بڑی مصیبت آنی ہوتی ہے، مگر اس کے صدقہ یا دعا کی وجہ سے وہ بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے اور اس کے بجائے چھوٹی موٹی پریشانی لاحق ہوتی ہے ، اس لیے سائل کو مندرجہ بالا تمام پہلو ذہن میں رکھ کر ہر حال میں صبر و شکر کا مظاہرہ کرتے رہنا چاہیے۔
ففي شعب الإيمان: عن أنس بن [ص:53] مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " باكروا بالصدقة، فإن البلاء لا يتخطى الصدقة " اھ (5/ 52)
و في سنن أبي داود: عن عبد الله بن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وهو على المنبر، وهو يذكر الصدقة، والتعفف منها، والمسألة: «اليد العليا خير من اليد السفلى، واليد العليا المنفقة، والسفلى السائلة» اھ (2/ 122) والله اعلم بالصواب