ایک آدمی جس کے سات بچے ہیں حال ہی میں اس کے دو جڑواں بچے پیدا ہوئے ہیں، اس کی مالی حالات بھی اتنی اچھی نہیں ، پریشانی کا ساماں رہتا ہے، بسا اوقات بچے بیمار ہوجاتے ہیں، تو اس کا خرچہ دوسروں سے لے کر پورا کرتاہے، اب مزید بچہ وہ نہیں چاہتا ہے، کیونکہ مزید بچہ کی پیدائش سے اس کی جڑواں بچوں کی پرورش پر اثر ہوگا۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسا آدمی مانع حمل ادویات یا کوئی ایسی چیز استعمال کرسکتا ہے، جو مانع حمل ہو ؟بینوا وتواجرو۔
دو جڑواں بچوں کی پیدائش کو بنیاد بنا کر ایسی مانع حمل ادویات یا طریقے اختیارکرنا جس سے بچوں کی پیدائش کا سلسلہ بالکل منقطع ہوجائے، شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر حمل کی وجہ سے پہلے سے موجود بچوں کی پرورش یا بیوی کی صحت پر برے اثرات پڑنے کا قوی اندیشہ ہو، تو عارضی طور پر کوئی مانع حمل تدبیر اختیار کرنیکی گنجائش ہے۔