میرا نام فرمان ہے ، اور میں نارتھ امریکا میں رہتا ہوں ، میرا سوال یہ ہے کہ میری اہلیہ پانچ ہفتوں کے حمل سے ہے، اور ہم اس کیلئے تیار نہیں ہیں، کیونکہ ہمارے پہلے بچے بھی چھوٹے ہیں، پانچ ہفتوں کے حمل سے دل کی دھڑکن نہیں آتی ، عام طور پر دل کی دھڑکن چھ سات ہفتوں کے دوران نہیں آتی ہے، مجھے اسلام کی روشنی میں بتائیں کہ کیا اسقاطِ حمل کرنا گناہ ہے ؟
مذکور حمل کی وجہ سے اگر سائل کی بیوی کی صحت سخت متاثر ہورہی ہو یا پہلے سے موجود بچے کی صحت پر برے اثرات پڑنے کا اندیشہ ہو اور کوئی مسلمان ماہر معالج بھی اسقاطِ حمل کا مشورہ دے تو ایسی صورت میں حمل کے چار ماہ پورے ہونے سےقبل اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے ، البتہ چار ماہ کی مدت کے بعد کسی بھی صورت اسقاط حمل جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار : وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج اھ(3/176)
وفي رد المحتار : تحت (قوله وقالوا الخ) قال في النهر بقى هل يباح الإسقاط بعد الحمل ؟ نعم يباح مالم يتخلق شئ ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما وهذا يقتضى أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح والا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذافى الفتح( إلى قوله )قال ابن وهبان فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر أو أنها لا تاثم إثم القتل اھ ( ج 3 ص 176)