السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب ایک میڈیکل ڈاکٹر ایک بخار میں مبتلا عورت کو درد کی دوائی اور انجکشن دیتا ہے جس سےعورت کے مہینے کا حمل ساقط ہوجاتا ہے، (ڈاکٹر نے بھی نہیں پوچھا اور مریض نے بھی نہیں بتایا) کیا حکم ہے اس ڈاکٹر کیلئے؟ جزاکم اللہ خیراً!
واضح ہو کہ مذکور ڈاکٹر اگر باقاعدہ سند یافتہ اور ماہر ہو اور اس نے مذکور مریضہ کے علاج میں جان کر کسی قسم کی کوتاہی نہ کی ہو اور کسی طرح کی بدنیتی اور بددیانتی سے بھی کام نہ لیا ہو تو اس پر کسی قسم کا ضمان عائد نہیں ہوگا، البتہ اگر وہ مذکور بالا شرائط کا حامل نہ ہو تو وہ سقوطِ حمل کے بعد پیش آنے والے علاج معالجہ کے اخراجات کا ضامن ہوگا۔
کما فی السنن لأبی داؤد: عن عمرو بن شعیب، عن أبیہ، عن جدہ، أن رسول اللہ ﷺ قال: ’’من تطبب، ولا یعلم منہ طب، فھو ضامن‘‘. (ج٢، ص٢٨٢)
وفی إعلاء السنن: لا ضمان علی حجام، ولا ختان، ولا متطبب إذا عرفت منھم حذق الصنعۃ، ولم تجن أیدھیم ، والحاصل أن ھؤلاء إذا فعلوا ما أمروا بہ لم یضمنوا بشرطین: أحدھما أن یکونوا ذوی حذق فی صناعتھم، ولھم بھا بصارۃ ومعرفۃ؛ لأنہ إذا لک یکن کذلک لم یحل لہ مباشرۃ القطع، وإذا قطع مع ھذا کان فعلًا محرما، فیضمن سرایتہ، کالقطع ابتداءً. الثانی أن لا تجنی أیدیھم فیتجوزوا ما ینبغی أن یقطع فأما إن کان حاذقًا وجنت یدہ ضمن فیہ کلہ، لأنہ اتلاف لا یختلف ضمانہ بالعمد أو الخطإ، فأشبہ اتلاف المال، وھذا مذھب الشافعی وأصحاب الرأی، ولا نعلم فیہ خلافا. اھـ من المغنی ملخصا. (ج١٢، ص٢٥١)
وفی الدر المختار: (قولہ وما استبان بعض خلقہ إلخ) تقدم فی باب الحیض أنہ لا یستبین خلقہ إلا بعد مائۃ وعشرین یوما، وظاھر ما قدمہ عن الذخیرة أنہ لا بد من مبدأ خلق آدمی ولو بقی لتصور فلا غرة فیہ وتجب فیہ عندنا حکومة. اھـ (ج٦، ص٥٩٠)
وفی رد المحتار: (قولہ ضرب بطن امرأۃ) وکذا لو ضرب ظھرھا (إلی قولہ) وقال السائحانی: یؤخذ مما یأتی من قولہ: أسقطتہ بدواء أو فعل أن البطن والضرب لیسا بقید، حتی لو ضرب رأسھا أو عالجت فرجھا ففیہ الضمان کما صرحوا بہ۔ اھـ (ج٦، ص٥٨٧) واللہ اعلم بالصواب