کیا ٹیسٹ ٹیوب بے بی کاعمل مرد ڈاکٹر سے کروانا جائز ہے؟
واضح ہو کہ ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ حصول اولاد کے لیے جو مختلف طرق رائج ہیں، سخت مجبوری کے تحت صرف ایک طریقہ کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ مادّہ منویہ اپنے زندہ شوہر کا ہو، اور پھر شوہر کی منی اور بیوی کے نطفہ کا باہم اختلاط کر کے یہ ٹیوب بیوی کے رحم میں رکھ دی جائے جہاں وہ حمل پرورش پائے، اور یہ عمل خود بیوی یا اس کے شوہر سے کروایا جائے یا کسی ماہر معالج عورت سے کروایا جائے ، اور اس دوران ستر وحجاب کا بھی پورا خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہر گز نہ کھولا جائے، تو ایسی صورت میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کو اختیار کر کے اولاد کا حصول بھی جائز ہے ورنہ نہیں ۔
کما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: التلقيح الصناعي: هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي. الخ (4/2649)۔