السلا علیکم
میرا سوال تھا کہ کیا کوئی جادو یا عمل سے کسی کو دین سے دور کر سکتا ہے یا برا کام کرا سکتا ہے ؟ اگر ہاں تو گناہ کس کے سر ہو گا؟
واضح ہو کہ جادو کا اثر کرنا نہ تو شرعاً محال ہے اور نہ ہی عقلاً ، جادو کے ذریعہ مزاج میں تغیر ہونا، تند رست کا بیمار ہونا وغیرہ یہ تمام امور ناممکن نہیں ، اسی طرح برے عملیات میں چوں کہ عموماً شیاطین اور جنات وغیرہ سے مدد لی جاتی ہے، اس لیے وہ بھی جادو ہی کی طرح ہیں، لہذا اگر کوئی شخص جادو کے اثر سے اپنا حقیقی اختیار کھو بیٹھے، اور کوئی برا فعل سر انجام دے، یا بے دین ہو جائے، تو اس کا وبال جادو کرنے والے پر ہوگا ، اور مسحور کو معذور سمجھا جائیگا، مگر ان سب میں اعتقاد یہی رکھنا لازم ہے، کہ یہ سب کچھ اللہ تعالی کے امر اور قدرت سے ہی ہوتا ہے۔
كما في تكملة فتح الملهم : والنوع الثاني من السحر، ما يحدث في المسحور تغيرا واقعيا سواء وقع ذلك التغير في المزاج فقط مثل أن يصير صحيح مريضا أو بالعكس أو وقع التغير بانقلاب حقيقة الشي بأن يصير الجماد حيوانا والحيوان جمادا
و فيه ايضا : أما امکان انقلاب الأعيان بالسحر والصحيح فيه مذهب الجمهور من أنه غير ممتنع عقلاً ولا شرعا ما دام الرجل معتقداً كأنه لايقع الا باذن الله وقدرته اھ (٤ / ٣٠١)