نجاسات اور پاکی

ہوا کے خارج ہونے کے بعد استنجاء ضروری ہے یا وضو کافی ہے؟

فتوی نمبر :
4216
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

ہوا کے خارج ہونے کے بعد استنجاء ضروری ہے یا وضو کافی ہے؟

جناب عالی! آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ: جب ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جائے، تو کیا استنجا کرنے کے بعد وضو کرنا پڑے گا، یا پھر صرف وضو ہی کرلیا جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

خروجِ ریح کے ساتھ اگر کسی قسم کی گندگی نہ نکلی ہو، تو استنجا کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ محض وضو کرلینا ہی کافی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیة: (قوله مثل ریح) فإنها تنقض لأنها منبعثة عن محل النجاسة لا لأن عینها نجسة؛ لأن الصحیح أن عینها طاهرة، حتی لو لبس سراویل مبتلة أو إبتل من الیتیه الموضع الذی تمر به الریح فخرج الریح لا یتنجس، وهو قول العامة وما نقل عن الحلوانی من أنه کان لا یصلی بسراویله فورع منه بحر اھ(136/1)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد المجید محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4216کی تصدیق کریں
0     356
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات