السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ !
معزز حضرات مفتیانِ کرام !میرا سوال یہ ہےکہ میرے مرحوم بھائی کے انتقال کے بعد مجھے ان کے ایک دوست سے معلوم ہوا کہ انہوں نے میرے بھائی کے پاس کچھ رقم بطور امانت رکھوائی تھی جب کہ مجھے اس معاملے کی کوئی خبر نہیں؟ لہذا ان کے دوست وہ ہر رقم طلب کر رہے ہیں، جبکہ میں نے اپنے بھائی کے تمام بینک اکاؤنٹس اور دیگر تمام ذرائع چیک کر لیے ہیں پر کہیں بھی یہ رقم موجود نہیں ہے تو ایسی صورت میں کیا مجھ پر شرعاً واجب ہو گا کہ میں اپنے پاس سے رقم ادا کروں ؟ جبکہ رقم ادا کرنے کی میری حیثیت نہیں یا یہ مجھ پر شرعاً واجب نہیں ؟بلکہ اگر میں ادا کر بھی دوں تو یہ محض میرا احسان ہو گا ؟ یا والدین پر شرعاً واجب ہو گا کہ وہ ادا کریں؟ برائے مہربانی تفصیلی جواب عنایت فرما دیں ؟ جزاک اللہ خیرا کثیرا
مذکور شخص کے پاس سائل کے مرحوم بھائی کے ہاں رقم رکھوانے پر اگر کوئی ثبوت ہو تو اتنی رقم مرحوم کے ترکہ سے ادا کر نالازم ہوگا، لیکن اگر اس کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو، یا ثبوت تو ہو لیکن سائل کے مرحوم بھائی نے ترکہ میں کچھ نہ چھوڑا ہو، تو ایسی صورت میں سائل یا سائل کے والدین پر مذکور شخص کو رقم دینا لازم نہیں ، البتہ اگر سائل کو اس بندہ کی سچائی کا یقین ہو اور اسے بطور احسان وہ رقم ادا کر دے تو اس کا اسے اختیار ہے، لیکن ایسا کرنا اس پر لازم نہیں۔
كما في جامع الفصولين: ورث قناً عن أبيه فادعاه رجل أنه له أودعه الميت يحلف ذو اليد الوارث على العلم فلو نكل فأمر بتسليمه إلى المدعي وسلم فادعاه آخر على المدعى عليه بمثل ما ادعاه الأول وأراد تحليفه ليس له ذلك قالوا وهذا إذا لم يكن في يد الابن شيء من تركة الأب سوى القن أما لو كان بيده من تكرته شيء آخر سواه يحلف للثاني لأنه يصح إقراره للثاني فكذا حلفه وهذا لأن المدعي يدعي تجهيل الوديعة على الميت وتجهيل الوديعة سبب الضمان فكان دعوى الدين على الميت وإقرار الوارث بدين على الميت إذا كان بيده شيء من التركة يصح فيحلف وإذا نكل يقضي عليه اھ (1/ 117)
و في المحيط البرهاني في الفقه النعماني: إذا اختلف الطالب وورثة المودع في الوديعة، فقال الطالب: (128ب2) قد مات ولم يبين، فصار ديناً في ماله، وقالت الورثة: كانت قائمة بعينها، ثم مات المودع، وكانت معروفة ثم هلكت بعد موته، فالقول قول الطالب هو الصحيح؛ لأن الوديعة صارت ديناً في التركة ظاهراً، والورثة يدعون أمراً بخلاف الظاهر، والطالب متمسك بما هو الظاهر. (5/ 540)۔
و في الفتاوى الهندية: لو مات المودع ولم تعرف الوديعة فهي دين في تركته يساوي دين الصحة كذا في التهذيب هذا إذا مات ولم يعلم حال الوديعة أما إذا عرف الوارث الوديعة والمودع يعلم أنه يعرف فمات ولم يبين لا يضمن كذا في الفصول العمادية اھ. (4/ 349)
و في الدر المختار: (ومنه) أي من المنع ظلما (موته) أي موت المودع (مجهلا فإنه يضمن) فتصير دينا في تركته اھ (5/ 666)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله فإنه يضمن) قال في مجمع الفتاوى المودع أو المضارب أو المستعير أو المستبضع، وكل من كان المال بيده أمانة إذا مات قبل البيان، ولم تعرف الأمانة بعينها فإنه يكون دينا عليه في تركته، لأنه صار مستهلكا للوديعة بالتجهيل، ومعنى موته مجهلا أن لا يبين حال الأمانة كما في الأشباه اھ (5/ 666)
و في الأشباه والنظائر لابن نجيم: إذا مات مجهلا لمال البدل فإنه يضمنه كما في الخانية ومعنى موته مجهلا أن لا يبين حال الأمانة وكان يعلم أن وارثه لا يعلمها فإن بينها وقال في حياته رددتها. فلا تجهيل إن برهن الوارث على مقالته وإلا لم يقبل قوله، وإن كان يعلم أن وارثه يعلمها فلا تجهيل، ولذا قال في البزازية: والمودع إنما يضمن بالتجهيل إذا لم يعرف الوارث الوديعة، أما إذا عرف الوارث الوديعة والمودع يعلم أنه يعلم ومات ولم يبين لم يضمن، ولو قال الوارث أنا علمتها وأنكر الطالب؛ إن فسرها وقال هي كذا وكذا وهلكت صدق (انتهى) . ومعنى ضمانها صيرورتها دينا في تركته اھ (ص: 234) والله أعلم بالصواب.
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0