احکام وراثت

کیا مرحوم بھائی کا قرضے کی ادائیگی اس کے زندہ بھائی کے ذمہ لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
40218
| تاریخ :
معاملات / ترکات / احکام وراثت

کیا مرحوم بھائی کا قرضے کی ادائیگی اس کے زندہ بھائی کے ذمہ لازم ہوگی؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ !
معزز حضرات مفتیانِ کرام !میرا سوال یہ ہےکہ میرے مرحوم بھائی کے انتقال کے بعد مجھے ان کے ایک دوست سے معلوم ہوا کہ انہوں نے میرے بھائی کے پاس کچھ رقم بطور امانت رکھوائی تھی جب کہ مجھے اس معاملے کی کوئی خبر نہیں؟ لہذا ان کے دوست وہ ہر رقم طلب کر رہے ہیں، جبکہ میں نے اپنے بھائی کے تمام بینک اکاؤنٹس اور دیگر تمام ذرائع چیک کر لیے ہیں پر کہیں بھی یہ رقم موجود نہیں ہے تو ایسی صورت میں کیا مجھ پر شرعاً واجب ہو گا کہ میں اپنے پاس سے رقم ادا کروں ؟ جبکہ رقم ادا کرنے کی میری حیثیت نہیں یا یہ مجھ پر شرعاً واجب نہیں ؟بلکہ اگر میں ادا کر بھی دوں تو یہ محض میرا احسان ہو گا ؟ یا والدین پر شرعاً واجب ہو گا کہ وہ ادا کریں؟ برائے مہربانی تفصیلی جواب عنایت فرما دیں ؟ جزاک اللہ خیرا کثیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور شخص کے پاس سائل کے مرحوم بھائی کے ہاں رقم رکھوانے پر اگر کوئی ثبوت ہو تو اتنی رقم مرحوم کے ترکہ سے ادا کر نالازم ہوگا، لیکن اگر اس کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو، یا ثبوت تو ہو لیکن سائل کے مرحوم بھائی نے ترکہ میں کچھ نہ چھوڑا ہو، تو ایسی صورت میں سائل یا سائل کے والدین پر مذکور شخص کو رقم دینا لازم نہیں ، البتہ اگر سائل کو اس بندہ کی سچائی کا یقین ہو اور اسے بطور احسان وہ رقم ادا کر دے تو اس کا اسے اختیار ہے، لیکن ایسا کرنا اس پر لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في جامع الفصولين: ورث قناً عن أبيه فادعاه رجل أنه له أودعه الميت يحلف ذو اليد الوارث على العلم فلو نكل فأمر بتسليمه إلى المدعي وسلم فادعاه آخر على المدعى عليه بمثل ما ادعاه الأول وأراد تحليفه ليس له ذلك قالوا وهذا إذا لم يكن في يد الابن شيء من تركة الأب سوى القن أما لو كان بيده من تكرته شيء آخر سواه يحلف للثاني لأنه يصح إقراره للثاني فكذا حلفه وهذا لأن المدعي يدعي تجهيل الوديعة على الميت وتجهيل الوديعة سبب الضمان فكان دعوى الدين على الميت وإقرار الوارث بدين على الميت إذا كان بيده شيء من التركة يصح فيحلف وإذا نكل يقضي عليه اھ (1/ 117)
و في المحيط البرهاني في الفقه النعماني: إذا اختلف الطالب وورثة المودع في الوديعة، فقال الطالب: (128ب2) قد مات ولم يبين، فصار ديناً في ماله، وقالت الورثة: كانت قائمة بعينها، ثم مات المودع، وكانت معروفة ثم هلكت بعد موته، فالقول قول الطالب هو الصحيح؛ لأن الوديعة صارت ديناً في التركة ظاهراً، والورثة يدعون أمراً بخلاف الظاهر، والطالب متمسك بما هو الظاهر. (5/ 540)۔
و في الفتاوى الهندية: لو مات المودع ولم تعرف الوديعة فهي دين في تركته يساوي دين الصحة كذا في التهذيب هذا إذا مات ولم يعلم حال الوديعة أما إذا عرف الوارث الوديعة والمودع يعلم أنه يعرف فمات ولم يبين لا يضمن كذا في الفصول العمادية اھ. (4/ 349)
و في الدر المختار: (ومنه) أي من المنع ظلما (موته) أي موت المودع (مجهلا فإنه يضمن) فتصير دينا في تركته اھ (5/ 666)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله فإنه يضمن) قال في مجمع الفتاوى المودع أو المضارب أو المستعير أو المستبضع، وكل من كان المال بيده أمانة إذا مات قبل البيان، ولم تعرف الأمانة بعينها فإنه يكون دينا عليه في تركته، لأنه صار مستهلكا للوديعة بالتجهيل، ومعنى موته مجهلا أن لا يبين حال الأمانة كما في الأشباه اھ (5/ 666)
و في الأشباه والنظائر لابن نجيم: إذا مات مجهلا لمال البدل فإنه يضمنه كما في الخانية ومعنى موته مجهلا أن لا يبين حال الأمانة وكان يعلم أن وارثه لا يعلمها فإن بينها وقال في حياته رددتها. فلا تجهيل إن برهن الوارث على مقالته وإلا لم يقبل قوله، وإن كان يعلم أن وارثه يعلمها فلا تجهيل، ولذا قال في البزازية: والمودع إنما يضمن بالتجهيل إذا لم يعرف الوارث الوديعة، أما إذا عرف الوارث الوديعة والمودع يعلم أنه يعلم ومات ولم يبين لم يضمن، ولو قال الوارث أنا علمتها وأنكر الطالب؛ إن فسرها وقال هي كذا وكذا وهلكت صدق (انتهى) . ومعنى ضمانها صيرورتها دينا في تركته اھ (ص: 234) والله أعلم بالصواب.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
یحیی عبدالکريم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 40218کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات