نجاسات اور پاکی

کیا سعودیہ کے لوگ اونٹ کا پیشاب پینا حلال سمجھتے ہیں؟

فتوی نمبر :
38871
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کیا سعودیہ کے لوگ اونٹ کا پیشاب پینا حلال سمجھتے ہیں؟

اونٹ کا پیشاب پینے کے بارے میں کیا رائے ہے؟ سعودی عرب میں بعض لوگ پیتے ہیں اور اس کا جواز پیش کرنے کے لیے صحیح احادیث کے حوالے پیش کرتے ہیں۔ برائے مہربانی میرا شک دور کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واجح ہو کہ جمہور علماء کے نزدیک اونٹ کا پیشاب نجس ہے، اس لئے اس کا پینا ناجائز ہے، جہاں تک سوال میں مذکور حدیث کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ صحاح کی کتابوں میں ایک قوم کا قصہ مذکور ہے، جن کو مدینہ کی ا ٓب وہوا موافق نہ آنے کی بناء پر پیٹ کی کوئی بیماری لاحق ہوگئی تھی، اس بیماری کے علاج کی غرض سے آنحضرتﷺ نے ان کو اونٹ کے دودھ اور پیشاب پینے کا حکم فرمایا تھا ، اور اونٹ کا پیشاب پینے کی اباحت اسی قوم کے ساتھ خاص تھی، کیونکہ آپﷺ کو بذریعہ وحی اس طریقہ سے علاج کرنے میں ان کی شفا ہونے کا علم ہوگیا تھا، تو ضرورت کی وجہ سے ان کے لئے اس کا پینا جائز تھا، اس کے علاوہ اس کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ چونکہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کو اس بات کا علم تھا کہ یہ لوگ ارتداد کی حالت میں مریں گے تو اس لئے ان کی شفا پیشاب جیسی چیز میں رکھ دی گئی تھی، نیز بعض روایات میں پینا صرف دودھ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، پیشاب کے بارے میں پینے کا حکم نہیں ہے، بہر حال مذکور روایت کی بناء پر اونٹ کے پیشاب کو مطلقاً پاک قرار دیکر پینے کا قول اختیار کرنا جمہور علماءکے نزدیک درست نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الجامع الصحیح للبخاری: عن أنس بن مالك، قال: قدم أناس من عكل أو عرينة، فاجتووا المدينة «فأمرهم النبي صلى الله عليه وسلم، بلقاح، وأن يشربوا من أبوالها وألبانها» فانطلقوا، فلما صحوا، قتلوا راعي النبي صلى الله عليه وسلم، واستاقوا النعم، فجاء الخبر في أول النهار، فبعث في آثارهم، فلما ارتفع النهار جيء بهم، «فأمر فقطع أيديهم وأرجلهم، وسمرت أعينهم، وألقوا في الحرة، يستسقون فلا يسقون». قال أبو قلابة: «فهؤلاء سرقوا وقتلوا، وكفروا بعد إيمانهم، وحاربوا الله ورسوله»۔(1/ 56)۔
وفی عمدة القاري شرح صحيح البخاري: بييان استنباط الأحكام منها: أن مالكا استدل بهذا الحديث على طهارة بول ما يؤكل لحمه، وبه قال أحمد ومحمد بن الحسن والإصطخري والروياني الشافعيان، وهو قول الشعبي وعطاء والنخعي والزهري وابن سيرين والحكم الثوري، وقال ابو داود بن علية: بول كل حيوان ونحوه، وإن كان لا يؤكل لحمه، طاهر غير بول الآدمي. وقال أبو حنيفة والشافعي وأبو يوسف وأبو ثور وآخرون كثيرون: الأبوال كلها نجسة إلا ما عفي عنه، وأجابوا عنه بأن ما في حديث العرنيين قد كان للضرورة، فليس فيه دليل على أنه يباح في غير حال الضرورة، لأن ثمة أشياء أبيحت في الضرورات ولم تبح في غيرها، كما في لبس الحرير فإنه حرام على الرجال وقد ابيح لبسه في الحرب أو للحكة أو لشدة البرد إذا لم يجد غيره، وله أمثال كثيرة في الشرع، والجواب المقنع في ذلك أنه، عليه الصلاة والسلام، عرف بطريق الوحي شفاهم، والاستشفاء بالحرام جائز عند التيقن (الی قولہ) ثم نقول: خصهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك لأنه عرف من طريق الوحي أن شفاءهم فيه ولا يوجد مثله في زماننا، وهو كما خص الزبير، رضي الله تعالى عنه، بلبس الحرير لحكة كانت به، أو للقمل، فإنه كان كثير القمل، أو لأنهم كانوا كفارا في علم الله تعالى ورسوله، عليه السلام، علم من طريق الوحي أنهم يموتون على الردة، ولايبعد أن يكون شفاء الكافر بالنجس. انتهى(3/ 154)۔واللہ تعالٰی اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سيد محمد بلال سلیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38871کی تصدیق کریں
0     266
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات